ہم نے اردن میں امریکی فوج پر حملے کا جواب دینے کا فیصلہ کر لیا ہے: بائیڈن

امریکی حکام نے کہا ہے کہ اردن میں فوجی اڈے پر حملے میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کے بعد واشنگٹن کا رد عمل عراق اور شام میں ہونے والے حملوں کے رد عمل سے زیادہ سخت ہو سکتا ہے۔امریکی ٹی وی’ سی این این‘ سے بات کرتے ہوئے حکام نے کہا کہ صدر جو بائیڈن پر ایسا فیصلہ کن جواب دینے کے لیےدباؤ بڑھ رہاہے کہ آئندہ کبھی ایسا حملہ نہ ہو۔

ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے مطابق اب بائیڈن انتظامیہ کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ڈرون حملے کا جواب کیسے دیا جائے۔ یہ حملہ خطے میں امریکی افواج پر سب سے مہلک حملہ ہے جوعلاقائی جنگ کو بھڑکا سکتا ہے۔امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کا ماحول خطرناک ہوتا جا رہا ہے۔ بلنکن نے مزید کہا کہ امریکی ردعمل "کثیرالجہتی کا ہو سکتا ہے، مراحل میں آ سکتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ جاری رہ سکتا ہے۔ بائیڈن انتظامیہ عراق یا شام میں مسلح گروپوں پر حملہ کرنے کا فیصلہ کر سکتی ہے اور علاقائی ملیشیا کی قیادت کو بھی نشانہ بنا سکتی ہے‘‘۔

امریکی ردعمل کے پاس آپشنز
اتوار کے روزشام کی سرحد کے قریب شمال مشرقی اردن میں ایک امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے کا جواب دینے کے حوالے سے امریکی حکام نے منگل کو انکشاف کیا کہ صدر جو بائیڈن نے اپنے مشیروں کو حکم دیا تھا کہ وہ ہدف کے جواب کے لیے آپشنز پیش کریں۔

اخبار’پولیٹیکو‘ کی رپورٹ کے مطابق حکام کا کہنا تھا کہ پینٹاگان کے سامنے موجود آپشنزمیں شام یا عراق میں ایرانی افراد یا خلیج میں ایرانی بحریہ کے اثاثوں کو نشانہ بنانے کا آپشنز تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ شام میں التنف بیس پر بمباری کے بارے میں امریکی ردعمل ممکنہ طور پر بائیڈن کی منظوری کے دو دن کے اندر شروع ہو جائے گا۔ یہ رد عمل عسکری گروپ کے خلاف حملوں کی لہروں کی شکل میں ہو گا۔

عراقی حزب اللہ بریگیڈز کے "فنگر پرنٹس”
شام کے ساتھ سرحد کے قریب اردن میں ایک امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے والے حملے کے بعد، پینٹاگون نے پیر کو اعلان کیا کہ ڈرون حملے میں زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 40 سے زائد ہو گئی ہے۔پینٹاگون کی ترجمان سبرینا سنگھ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ حملے میں ایرانی حمایت یافتہ عراقی حزب اللہ بریگیڈز کے فنگر پرنٹس تھے۔انہوں نے مزید کہا: "ہم جانتے ہیں کہ ایران ان گروپوں کو فنڈز فراہم کرتا ہے جو امریکی افواج پر حملہ کرتے ہیں۔”

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading