ہمیں گولی مار دو، پھر دہشت گرد بنو

کشمیری طالب علم احتشام بلال کی والدہ کا دردمندانہ بیان

سری نگر:4۔نومبر (ایجنسیز) اترپردیش کے گریٹر نوئیڈا علاقہ سے لاپتہ کشمیری طالب علم احتشام بلال دہشت گرد بن گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جمعہ کی شام وائرل ہوئی ایک آڈیو اور ایک تصویر کے مطابق احتشام بلال نے اسلامک اسٹیٹ جموں وکشمیر نامی جنگجو تنظیم میں شمولیت اختیار کی ہے۔ دریں اثنا احتشام کی والدہ کا بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے میڈیا کے ذریعہ بیٹے سے گھر واپس آنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ اگر تم واپس نہیں آنا چاہتے تو، پہلے ہمیں گولی مار دو اور پھر چلے جاؤ‘۔سری نگر کے پائین شہر کے علاقہ خانیار کے رہنے والے 20 سالہ احتشام کو تصویر میں سیاہ کپڑے اور فوجی جیکٹ پہنے دیکھا جاسکتا ہے۔ آڈیو میں احتشام کو اسلامک اسٹیٹ جموں وکشمیر میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے۔ تصویر اور آڈیو کے وائرل ہونے کے ایک روز بعد احتشام کے اہل خانہ نے ان سے واپس آنے کی دردمندانہ اپیل کی ۔ احتشام کی روتی بلکتی ماں نے کہا ‘جن کے پاس بھی میرا بیٹا ہے، وہ اسے واپس بھیجیں۔ اللہ ان سب کی حفاظت کرے۔ میں تمام لوگوں سے اپیل کرتی ہوں، وہ میرے احتشام کو واپس بھیجیں۔ وہ ہمارا اکلوتا سہارا ہے۔ میں ذاکر موسیٰ سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ میرے احتشام کو واپس بھیجیں۔ اس کی تین بہنیں ہیں۔اگر ہم مر گئے تو ہمارے جنازے کو کون کندھا دے گا’۔ انہوں نے کہا ‘احتشام! کیا آپ کو اپنی ماں کا خیال نہیں رہا۔ کیا تم نے نہیں سوچا کہ میری ماں کیا کرے گی۔ احتشام تمہارا والد دل کے عارضے میں مبتلا ہے۔ میں تمام تنظیموں سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ میری مدد کریں۔ میں گیلانی صاحب، عمر صاحب اور یاسین صاحب سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ میری مدد کریں’۔بتادیں کہ شاردا یونیورسٹی میں بی آئی ایم ٹی سال اوم میں زیر تعلیم احتشام اور دوسرے ایک کشمیری طالب علم کو اکتوبر کے اوائل میں مقامی طالب علموں کے ایک ہجوم نے شدید زد وکوب کیا تھا جس کے بعد انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ احتشام زد وکوب کئے جانے کے واقعہ کے تین ہفتے بعد 28 اکتوبر کو لاپتہ ہوگیا تھا۔ ریاستی پولیس کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی آڈیو اور تصویر کی صداقت کی جانچ کی جارہی ہے۔احتشام کے اہل خانہ اور رشتہ داروں نے جمعرات کو یہاں پریس کالونی میں اپنا احتجاج درج کرکے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک، قومی رادھانی نئی دہلی اور اترپردیش کی حکومتوں سے اپیل کی تھی کہ وہ احتشام کو بازیاب کرنے میں ہماری مدد کریں۔ احتشام کے والد بلال احمد صوفی نے کہا تھا ‘ہماری یہاں کی گورنر انتظامیہ اور دہلی و اترپردیش سرکاروں سے اپیل ہے کہ وہ ہمارے بچے کو بازیاب کرنے میں ہماری مدد کریں۔ ہم یہاں کی تمام جماعتوں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہماری مدد کریں۔ ہم چار بھائی ہیں۔ یہ ہمارا اکلوتا بیٹا ہے’۔شاردا یونیورسٹی میں زیر تعلیم مقامی طالب علموں کے ایک ہجوم نے 4 اکتوبر کو دو کشمیری طالب علموں کا شدید زد وکوب کیا تھا جس کے بعد انہیں اسپتال میں داخل کرنا پڑا تھا۔ میڈیا رپورٹوں میں کشمیری طالب علموں کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ شاردا یونیورسٹی میں مقامی اور افغانی طلبہ کے درمیان پچھلے کچھ وقت سے جھگڑا چل رہا تھا تو اس دوران 4 اکتوبر کو مقامی طلباءجن کی تعداد قریب 200تھی نے افغانی طلباکے خلاف یونیورسٹی میں احتجاج کیا اور انہیں وہاں سے نکالنے کا مطالبہ کیا۔اس دوران جب کشمیری طلباءیونیورسٹی سے باہر آئے تواحتجاجیوں نے اُن کو پکڑ کر اُن کا شدید زدوکوب کیااور اس زدکوب کی وجہ سے احتشام اور عبید نامی دو کشمیری طالب علم شدید زخمی ہو گئے تھے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading