ہماچل پردیش میں ہندو تنظیموں کی شرانگیزی جے شری رام اور وندے ماترم کے نعرے لگاتے ہوئے نماز کے لیے نصب ٹینٹ کو اکھاڑ دیا

’ہماچل پردیش کو میرٹھ، کیرانہ او ربنگال نہیں بننے دیاجائے گا‘

شملہ ۔ ۶؍جولائی: سرکاری زمین پر نماز بنام ہنومان چالیسہ کا ہنگامہ اب ہماچل پردیش کے اونا تک پہنچ گیا ہے۔ معاملہ اونا کے ٹہالیوال بازار کا ہے جہاں جمعہ کو سینکڑوں لوگوں کی بھیڑ نے ٹہالی وال بازار میں جم کر احتجاج کیا، ٹہالی وال کے ننگل گائوں میں نماز کےلیے لگائے گئے ٹینٹ کو اکھاڑ پھینکا دیا او ر مختلف ہندو تنظیموں کے لوگوں نے وہاں ہنومان چالیسا کا پاٹھ کیا۔ پولس او رمقامی لیڈروں نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہاں نماز پڑھنا ترک کردیں جسے مسلمانوں نے قبول کرلیا ہے جس کی وجہ سے حالات قابو میں ہے فی الحال موقع پر بھاری تعداد میں پولس تعینات ہے اور انتظامیہ حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ پورے ہنگامے کی جڑ نگرپنچایت کی زمین ہے جس پر برسوں سے مسلم سماج کے لوگ نماز پڑھتے آرہے ہیں.

ہندو کمیونٹی کا الزام ہے کہ عوامی زمین پر جمعہ کو ہونے والی نماز میں مقامی مسلموں کے علاوہ پنجاب، دہلی، ہریانہ سے بھی تقریباً دو تین ہزار مسلمان پہنچتے ہیں جس سے سڑک پر جام کی حالت پیدا ہوجاتی ہے اور پورے علاقے کا ماحول خراب ہورہا ہے۔ حالانکہ گائوں کے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ ہم ۱۹۸۳ سے ہی اس جگہ پر نماز پڑھ رہے ہیں اور اس زمین پر عدالت میں مقدمہ بھی چل رہا ہے۔ ہندو تنظیموں کے لیڈروں کا الزام ہے کہ مسلم کمیونٹی کے ذریعے سرکاری زمین پر جبراً قبضہ کیا گیا ہے اور یہاں نماز پڑھنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے ، انہوں نے اعلان کیا کہ ہماچل پردیش کو میرٹھ، کیرانہ اوربنگال نہیں بننے دیاجائے گا۔

نماز کو لے کر ہنگامہ اور کشیدگی کی خبر جب پولس تک پہنچے تو وہ بھی پوری نفری کے ساتھ وہاں پہنچ گئی او رلوگوں کو پرامن طریقے سے رہنے کی تلقین کی۔ہندو تنظیموں کے لیڈروں نے مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر ٹہالی وال بازار سے لے کر متنازعہ جگہ تک ایک ریلی نکالی بھیڑ نے اس دوران جے شری رام، ویر بجرنگی، وندے ماترم اور بھارت ماتا کی جے کے نعرے لگائے، مشتعل بھیڑ نے متنازعہ جگہ پر نماز کے لیے نصب ٹینٹ کو بھی اکھاڑ دیا اور ہنومان چالیسا کا اہتمام کیا۔ سڑکوں پر نماز کے جواب میں ہنومان چالیسا کے پاٹھ کی تصویر بنگال سے آتی رہی ہیں لیکن اب ہماچل میں بھی اسے لے کر ہنگامہ شروع کردیاگیا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading