ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: 24 ہفتوں کا حمل ساقط کرنے کی اجازت

اورنگ آباد : 20 اپریل (یو این آئی)اسقاطِ حمل کے لیے 20 ہفتوں کی طے شدہ مدت کے موجودہ قانون کے باوجود 24 ہفتوں کی حاملہ ایک 29 سالہ خاتون کو اس کے رحم میں پلنے والے بچہ ( جنین ) کے مختلف طبی پیچیدگیوں کا شکار ہونے کی بناء پر ممبئی ہائی کورٹ نے حمل ساقط کرنے کی اجازت دے دی۔


ممبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ نے یہ اہم فیصلہ اس وقت دیا جب عدالت کے سامنے ان حقائق کو پیش کیا گیا کہ اس خاتون کے رحم میں پلنے والا بچہ ( جنین ) مختلف طبی پیچیدگیوں کا شکار ہے۔ پیدائش کے فوری بعد بھی اسے مختلف پیچدہ نوعیت کی کئی بڑی جراحیوں سے گزرنا ہوگا۔اور ہر جراحی کے دوران اسکی زندگی کو خطرہ لاحق رہے گا۔ نیز وہ کبھی بھی عام طریقے سے ایک آسان اور صحت مند زندگی نہیں گزار سکے گا۔


اس خاتون نے ہائی کورٹ ایڈوکیٹ سعید ایس شیخ کی معرفت ایک عرضداشت داخل کر کے عدالت سے استدعاکی تھی کہ اسے اسقاطِ حمل کی اجازت دی جائے کیونکہ ڈاکٹروں نے مختلف نوعیت کی طبی جانچوں کے بعد اس خاتون کو اسقاطِ حمل کا مشورہ دیا تھا۔ لیکن موجودہ قانون( میڈیکل ٹرمینشن آف پرگننسی ایکٹ 1971) میں اسقاطِ حمل کے اجازت صرف 20ہفتوں کے حمل تک ہی دی گی ہے۔ اس خاتون کو 24ہفتوں کا حمل ہونے کی وجہ سے سرکاری اور دوسرے منظورشدہ خانگی اسقاطِ حمل مراکز پر اس خاتون کا حمل ساقط کرنے سے انکار کر دیا گیا۔


ایڈوکیٹ سعید ایس شیخ نے معاملے کی سنگینی اور عجلت کے پیش نظر عدالت خصوصی طور پر فوری سماعت کی درخواست کی، جسے عدالت نے قبول کر کے فوری سماعت کی اور گورنمٹ میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل اورنگ آباد سے اس ضمن میں فوری رپورٹ دینے کا حکم دیا۔ دوسرے دن اس رپورٹ کی بنیاد پر جس میں متذکرہ حقایق کی توثیق کرتے ہوئے اسقاطِ حمل کو ضروری اور لازمی بتایا گیا تھا ، نیز اس بات کی صراحت بھی کی گئی تھی کہ حمل ساقط کرنے کی صورت میں اس خاتون کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، اس لیے یہ بات اس خاتون اور اس کے رشتہ داروں کے علم میں لائی جائے ۔ ایڈوکیٹ سعید ایس شیخ نے عدالت کو بتایا کہ اس خاتون کو یہ بات بتا دی گئی ہے اور وہ حمل ساقط کرنے کے لیے تیار ہے۔اس کے بعد عدالت نے یہ فیصلہ دیا۔ اس کیس میں ایڈوکیٹ عارف سید نے معاونت کی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading