وارانسی: اترپردیش کے ضلع وارانسی میں واقع گیان واپی مسجد احاطے میں پوجا کی اجازت دینے اورمسلمانوں کے داخلے پر پابندی عائد کرنے کی مطالبے کے ساتھ ایک نئی عرضی مقامی عدالت میں داخل کی گئی ہے ۔وشو ویدک سناتن سنگھ کی جانب سے یہ عرضی منگل کو سول جج(سینئر ڈویژن) روی کمار دیواکر کی عدالت میں پیش کی گئی تھی۔اسے سماعت کے لئے فاسٹ ٹریک کورٹ کو منتقل کردیا گیا ہے ۔فاسٹ ٹریک کورٹ کے جج مہندر کمار پانڈے کی عدم موجودگی میں اس عرضی پر چہارشنبہ کو سماعت نہیں ہوسکی۔
شنوائی کی اگلی تاریخ 30مئی کو طے کی گئی ہے ۔مدعی تنظیم کی جانب سے کرن سنگھ وسین نے یہ عرضی داخل کی ہے ۔ اس میں مسجداحاطے میں ملے ـمبینہ شیولنگ کی پوجا کرنے کی اجازت دینے اور مسلمانوں کی گیان واپی مسجد میں اور اس کے احاطے میں داخلے پر پابندی عائد کرکے اسے ہندوؤں کے حوالے کرنے کامطالبہ کیا گیا ہے ۔عرضی میں درخواست کی گئی ہے کہ سروے کے دوران حوض میں ملے مبینہ شیولنگ کی مانند اسٹرکچر کی پوجا کی اجازت دی جائے ۔انجمن انتظامیہ مسجد کے وکیل معراج الدین صدیقی نے بتایا کہ عرضی کو فاسٹ ٹریک کورٹ میں منتقل کردیا گا ہے جہاں اس کی 30مئی کو سماعت ہوگی۔
وہیں گیان واپی احاطہ کیس معاملے میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ شرنگاری گوری کی پوجا کی مطالبے والی اصل عرضی کے جواز پر سماعت کرے گی کہ آیا اس پر سماعت ہو بھی سکتی ہے یا نہیں۔ڈسٹرکٹ جج اجئے کرشنا وشویش نے منگل کو کہا تھا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ عدالت پہلے اصل عرضی کے سماعت کے جواز پر شنوائی کرے ۔اس کے لئے عدالت نے 26مئی کی تاریخ طے کی ہے ۔جس میں عدالت پہلے انتظامیہ کمیٹی کی جانب سے داخل کی گئی عرضی پر کوڈ آف سول پروسیز کے آرڈر 7وصول 11 کے تحت سماعت کرے گی۔