گیانواپی معاملہ: ’بچے ہوئے حصوں کا اے ایس آئی سروے نہیں ہوگا‘، ہندو فریق کی عرضی عدالت نے کی خارج

گیانواپی مسجد تنازعہ سے جڑے ایک اہم معاملے میں آج عدالت نے ہندو فریق کو شدید جھٹکا دیا ہے۔ وارانسی کورٹ نے ہندو فریق کی اس عرضی کو خارج کر دیا ہے جس میں گیانواپی کے باقی بچے حصوں کا اے ایس آئی سروے کرانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اس عرضی کو خارج کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ گیانواپی کے بچے ہوئے حصوں کا اے ایس آئی سروے نہیں ہوگا۔ حالانکہ ہندو فریق نے عدالت کے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج پیش کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ گیانواپی معاملے کے اہم کیس میں 33 سال بعد یہ فیصلہ آیا ہے۔ وارانسی کے ایف ٹی سی کورٹ نے گیانواپی احاطہ کے اضافی سروے کا مطالبہ خارج کرنے کا فیصلہ سنایا۔ اس کیس سے جڑے معاملے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں ہونے کی وجہ سے یوگل شمبھو کی عدالت نے ہندو فریق کی اس عرضی کو خارج کر دی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading