بھیونڈی میں پولیس اسٹیشن کی تعمیر کو لے کر ہوئے فساد میں زخمی ہوا ملزم 12 سال بعد گرفتار

بھیونڈی ( شارف انصاری ):- بھیونڈی شہر میں واقع کوٹر گیٹ علاقے میں پی ڈبلیو ڈی کی جگہ پر پولیس اسٹیشن کے تعمیر کو لے کر 5 جولائی 2006 میں ہوئے فسادات میں زخمی ملزم معین الدین غلام حسین مومن 35 کو بھیونڈی پولیس نے 12 سال بعد گرفتار کر لیا ہے ۔

بھیونڈی کی خبروں کیلئے ہمارے واٹس ایپ گروپ کو جوائن کریں

واضح ہو کے بھیونڈی شہر کے کوٹر گیٹ علاقے میں واقع پی ڈبلیو ڈی کی زمین پر پولیس اسٹیشن کی تعمیر کا کام جاری تھا ۔ جس کے خلاف 5 جولائی 2006 کو بھیونڈی شہر میں ایک بڑا فساد برپا ہو گیا تھا۔ فسادات میں دو شہری اور دو پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے ۔اس فسادات کو پھیلانے کے لئے پولیس نے رضا اکیڈمی کے لوگوں پر الزام لگایا تھا۔ جس میں تقریبا 4 سے 5 سو افراد نے پولیس پر سنگ باری کی ۔ اس بھیڑ کو منتشر کرنے کے لئے پولیس نے آنسو گیس کا گولا چھوڑنے کے ساتھ لاٹھی چارج اور آخر میں فائرنگ کرنی پڑی تھی ۔ ذرائع کے مطابق جن میں سے ایک معین الدین کے پاؤں پر گولی لگی تھی۔ پولیس ذرائع کے مطابق گولی لگنے کے بعد مقامی بنگال پورہ کا مکین معین الدین چوری سے ڈاکٹر کے پاس جاکر گولی نکلوا کر اپنا علاج کرایا تھا۔ اس بات کی بھنک پولیس کو لگ گئی تھی ۔ اس واقعہ کی معلومات ہونے کے بعد جاچ مقامی کرائم برانچ پولیس شاخہ کو دی گئی۔ پولیس نے ملزم معین الدین کو حراست میں لے کر سخت پوچھ تاچھ شروع کی تب ملزم نے پولیس کو بتایا کہ اس کے پاؤں میں جو زخم کا نشان ہے وہ گولی نہیں پتھر لگنے کی وجہ سے ہوا تھا ۔ ملزم کی بات کا یقین نہ کرتے ہوئے پولیس نے ڈاکٹری جانچ کا فیصلہ کیا اور اس کے پاؤں میں لگے زخم کے نشانات کو ممبئی کے جے جے ہسپتال میں بھیجا ۔ملزم کے پاؤں کی ڈاکٹری جانچ کی گئی۔ ڈاکٹری جانچ میں پتہ چلا ہے کہ پاؤں میں زخم کا نشان گولی کی وجہ سے ہوا ہے ۔ جانچ رپورٹ آتے ہی کرائم برانچ پولیس نے ملزم کو نظام پورہ پولیس اسٹیشن کے حوالے کر دیا ۔ نظام پورہ پولیس نے اس کے خلاف مقدمہ درج کر اسے گرفتار کر لیا ہے ۔ نظام پورہ پولیس نے فسادات میں ملوث ملزم معین الدین کو عدالت میں پیش کیا جہاں عدالت نے ملزم کو 5 دن کی پولیس حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے ۔ معاملے کی جانچ پولیس انسپکٹر سنتوش گھوٹیکر کر رہے ہیں ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading