سپریم کورٹ نے استغاثہ کو 20 نومبر تک ملزمین کی سزاﺅں کے متعلق تفصیلات پیش کرنے کا حکم دیا، گلزار اعظمی
ممبئی:13 نومبر(ای میل)27 فروری 2002ءکو ایودھیا سے بذریعہ سابرمتی ٹرین لوٹ رہے 59 کار سیوکوں کو زندہ جلانے کے الزامات کے تحت گرفتار ۱۳ مسلم نوجوانوں کو گجرات ہائی کورٹ سے ملی عمر قید کی سزاءکاٹ رہے 29 مسلم نوجوانوں کی ضمانت پر رہائی کی عرضداشت پر آج سپریم کورٹ آف انڈیا کی دو رکنی بینچ کے سامنے سماعت عمل میںآئی جس کے دوران عدالت نے جمعیة علماء(ارشد مدنی) کی جانب سے مقرر کردہ سینئر وکیل پی وی مشراءاور سابق ایڈیشنل سالیسٹر جنرل امریندر شرن نے عدالت کو بتایاکہ عمر قید کی سزا پانے والے ملزمین ابتک جیل میں ۶۱ سال سے زائد کا عرصہ گذار چکے ہیں اور ان کی اپیلوں پر مستقبل قریب میں سماعت ہونے کے امکانات نہیں ہیں لہذا انہیں ضمانت پر رہا کیا جائے۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میںملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیة علماءقانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔گلزار اعظمی نے مزید بتایا کہ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں د اخل اپیل کو عدالت نے پہلے ہی سماعت کے لیئے قبول کرلیا تھا جس کے بعد ملزمین کی ضمانت پر رہائی کی درخواست داخل کی گئی تھی جس پر آج دو رکنی بینچ کے جسٹس ارون مشراءاور جسٹس ونیت شرن کے روبرو سماعت عمل میںآئی جس کے دورن عدالت نے استغاثہ کو حکم دیاکہ وہ 20 نومبرکو ملزمین کی سزاﺅں کے متعلق تفصیلات عدالت میں پیش کرے ۔ آج عدالت میں سینئر وکلاءکے ساتھ ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ارشاد احمد اور ایڈوکیٹ ابھیمنیو شریستا بھی موجود تھے ۔ گلزار اعظمی نے مقدمہ کے تعلق سے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا ایک بہت بڑا مقدمہ ہے جس میں تحقیقاتی دستوں نے قتل ، اقدام قتل اور مجرمانہ سازش کے الزامات کے تحت ۴۹ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف مقدمہ چلایا گیا جہاں نچلی عدالت نے ثبوتوں کی عدم موجودگی کے سبب ۳۶ ملزمین کو باعزت بردی کردیا تھا وہیں ۰۲ ملزمین کو عمر قید اور ۱۱ دیگر ملزمین کو پھانسی کی سزاءسنائی تھی۔گلزار اعظمی نے مزید کہا کہ گذشتہ سال ۹ اکتوبر کو گجرا ت ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس اننت ایس دوے اور جسٹس جی آر وادھوانی نے اپنے 987 صفحات پر مشتمل فیصلہ میں ایک جانب جہاں نچلی عدالت سے ملی عمر قید کی سزاﺅں کو برقرار رکھا تھا وہیں پھانسی کی سزاﺅں کو عمر قید میں تبدیل کرکے ملزمین کو کچھ راحت دی تھیں ۔گلزار اعظمی نے مزید کہا کہ ملزمین بلال احمد عبدالمجید، عبدالرزاق، رمضانی بنیامین بہیرا،حسن احمد چرخہ،جابر بنیامین بہیرا، عرفان عبدالمجید گھانچی،عرفان محمد حنیف عبدالغنی، محبو احمد یوسف حسن، محمود خالد چاندا، سراج محمد عبدالرحمن، عبدالستار ابراہیم، عبدالراﺅف عبدالماجد،یونس عبدالحق، ابراہیم عبدالرزاق، فارق حاجی عبدالستار، شوکت عبداللہ مولوی، محمد حنیف عبداللہ مولوی،شوکت یوسف اسماعیل،انور محمد ،صدیق ماٹونگا عبداللہ بدام شیخ،محبوب یعقوب، بلال عبداللہ اسماعیل، شعب یوسف احمد، صدیق محمد مورا،سلیمان احمد حسین، قاسم عبدالستارکی ضمانت پر رہائی کی درخواست داخل کی گئی ہے ۔