کیا واقعی 500 روپے کا نوٹ بند ہونے والا ہے؟ کیا ہیں اس کے اسباب؟

ممبئی:گزشتہ کچھ دنوں سے 500 روپے کے نوٹ بند ہونے کی خبریں بہت زیرِ بحث ہیں۔ ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) کے بارے میں یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ وہ 2,000 روپے کے نوٹوں کی طرح 500 روپے کے نوٹ بھی کرنسی سے خارج کرنے والا ہے۔ اگرچہ ریگولیٹری بینک کی جانب سے 500 روپے کے نوٹوں کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق 500 روپے کے نوٹ مارچ 2026 تک بند کیے جا سکتے ہیں۔ آئیے، اس فیصلے کے پیچھے کے 3 اہم وجوہات کو جانتے ہیں۔

بینکنگ ماہر اشونی رانا نے بتایا کہ RBI مارچ 2026 تک 500 روپے کے نوٹ بند کر سکتا ہے۔ انہوں نے TV9 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ RBI ان نوٹوں کو نوٹ بندی کی طرز پر ایک دم بند کرنے کا فیصلہ نہیں کرے گا۔ اس کے بجائے، پہلے ان نوٹوں کی چھپائی بند کر کے بازار میں ان کی تعداد کم کرنے پر کام کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے بینک کی جانب سے 100 اور 200 روپے کے نوٹوں کی کرنسی بڑھائی جا سکتی ہے۔ بینکوں کے اے ٹی ایم میں ان نوٹوں کی تعداد بڑھائی جائے گی اور 500 روپے کے نوٹ آہستہ آہستہ بازار سے نکال کر بینکوں میں جمع کیے جائیں گے۔ یہ عمل ایک دن میں مکمل ہونے والا نہیں ہے۔ RBI اس کے لیے ایک منصوبہ لاگو کر سکتا ہے۔ مارچ 2026 تک اس بارے میں فیصلہ لیے جانے کا امکان ہے۔

یہ ہیں وہ وجوہات:

اگر ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) 500 روپے کے نوٹ بند کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کے پیچھے کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ آخر ریگولیٹری بینک بڑے یعنی 500 روپے کے نوٹ بند کرنے پر غور کیوں کر رہا ہے؟

کالا دھن کنٹرول کرنے کے لیے

حکومت 500 روپے کے نوٹ بند کر کے کالے دھن پر قابو پانے کی کوشش کر سکتی ہے۔ ملک بھر میں یہ دیکھا گیا ہے کہ جب بھی انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ چھاپے مارتا ہے، تو جو نوٹ برآمد ہوتے ہیں، ان میں زیادہ تر 500 روپے کے نوٹ ہی ہوتے ہیں۔ حکومت اور RBI بدعنوانی پر روک لگانے کے لیے 500 روپے کے نوٹ بند کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ کالا دھن بینکوں میں جمع کرانے کے مقصد سے یہ فیصلہ لیا جا سکتا ہے۔

چھوٹے نوٹوں کو فروغ دینے کے لیے

RBI چھوٹے نوٹوں کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ 500 روپے کے نوٹوں کی کرنسی کم کر کے اے ٹی ایمز اور بینکوں میں 100 اور 200 روپے کے نوٹوں کی مقدار بڑھائی جائے گی۔ جتنی مقدار میں 500 کے نوٹ بند ہوں گے، اتنی ہی مالیت کے چھوٹے نوٹ چھاپے جائیں گے۔

ڈیجیٹل ادائیگی کو فروغ دینے کے لیے

حکومت بڑے نوٹ بند کر کے ڈیجیٹل پیمنٹ کو فروغ دینے کی تیاری کر رہی ہے۔ ڈیجیٹل لین دین کے ذریعے کالے دھن کا سراغ لگانا ممکن ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی عوام کی سہولت میں بھی اضافہ ہوگا۔

1 thought on “کیا واقعی 500 روپے کا نوٹ بند ہونے والا ہے؟ کیا ہیں اس کے اسباب؟”

  1. پہلے ہی 2 ہزار کے نوٹ بند کر کے عوام کو لاکھوں روپے کا نقصان ہوا ہے ابھی تک لوگ اس کے وجہ سے قرضوں میں ڈوبے ہوئے ہیں آکر حکومت عوام کو وقت دہتی ہے تو زیادہ برا نقصان نہیں ہوگا

    جواب دیں

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading