باربار ایسا ہی کیوں ہوتا ہے ؟
یہ سوال اس ملک کی ان سیاسی پارٹیوں اور ان سیاست دانوں سے ہے جو سیکولر کہلاتی اور کہلاتے ہیں ۔ سوال، کہ بار بار ’انتشار‘ اور ’بکھراؤ‘ کے نتائج دیکھنے کے بعد بھی کیوں کوئی ’مضبوط اتحاد‘ بنانے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی جاتی ؟ ہر الیکشن میں وہی پرانی تاریخ دوہرائی جارہی ہے اور ہر الیکشن میں وہی پرانے نتائج سامنے آرہے ہیں ! حالانکہ جہاں ’ مضبوط اتحاد‘ ہوا وہاں ’جیت‘ کی شکل میں نتیجہ سامنے آیا، لیکن ’جیت‘ اور ’ کامیاب مضبوط اتحاد‘ کا خمار جب اترا تو پھر ڈھاک کے تین پات کے مصداق ہر سیاسی پارٹی ایک دوسرے کا پتّہ کاٹنے میں لگ گئی ، ’اتحاد‘ ختم کیا اور ’ ہار‘ کی شکل میں ’ انجام‘ بھی دیکھ لیا ۔۔۔ مہاراشٹر میں شاید یہی ہونا ہے جہاں ۲۱؍ اکتوبر کو اسمبلی انتخابات ہونا ہیں ۔ یوں تو مہاراشٹر میں کانگریس اور راشٹروادی کانگریس پارٹی ( این سی پی) نے ’ اتحاد‘ کیا ہے ، سماج وادی پارٹی کا بھی اس ’ اتحاد‘ کی ایک پارٹی کانگریس کے ساتھ ’ اتحاد‘ ہے لیکن اس ’ اتحاد‘ کا ایک عجیب وغریب پہلو یہ ہے کہ بھیونڈی حلقہ سے سماج وادی پارٹی کے امیدوار رئیس شیخ کے سامنے کانگریس نے بھی اپنے امیدوار سنتوش شیٹی کو کھڑا کررکھا ہے ۔ دوسرا عجیب وغریب پہلو یہ ہے کہ کانگریس اور این سی پی میں ’ اتحاد‘ ہے لیکن سماج وادی پارٹی کا کانگریس کی حلیف این سی پی سے کہیں اتحاد نہیں ہے !
اگر مسلمانوں اورسیکولر رائے دہندگان نے سوچ سمجھ کر ووٹ نہیں دئیے تو اسمبلی میں مسلم نمائندگی مزید گھٹے گی اور سیکولر زم دم توڑ دے گا
گذشتہ لوک سبھا الیکشن میں مجلس اتحاد المسلمین ( ایم آئی ایم) اور ونچت بہوجن اگھاڑی میں ’ اتحاد ‘ تھا، اس ’اتحاد‘ کے نتیجہ میں کئی دہائیوں کے بعد اورنگ آباد لوک سبھا حلقہ سے ایم آئی ایم کے مسلم امیدوار امتیاز جلیل کو کامیابی ملی تھی۔ کئی حلقوں میں یہ ’ اتحاد‘ جیت سے بہت قریب تھا۔ لیکن اس بار ایم آئی ایم اور ونچت بہوجن اگھاڑی نے اپنے اپنے راستے الگ کرلئے ہیں ! ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ ونچت بہوجن اگھاڑی اور ایم آئی ایم دونوں کا ، کانگریس اور این سی پی سے ’ گٹھ جوڑ‘ ہوتا اور اس ’ گٹھ جوڑ‘ میں سماج وادی پارٹی بھی ساتھ ہوتی لیکن ہوا یہ ہے کہ سماج وادی پارٹی ، ونچت بہوجن اگھاڑی اور ایم آئی ایم کو کانگریس اور این سی پی نے گھاس نہیں ڈالی، کانگریس نے بالکل آخری موقع پر سماج وادی پارٹی سے ’گٹھ جوڑ‘ کیا لیکن ونچت اگھاڑی اور ایم آئی ایم کو قطعی نظر انداز کردیا ۔۔۔ اور این سی پی نے سوائے کانگریس کے ان پارٹیوں میں سے کسی کو بھی اپنے ساتھ ملانے کی کوئی کوشش نہیں کی ، لہٰذا ایک ’ مضبوط سیکولر اتحاد‘ ممکن نہیں ہوسکا ۔
ویسے سارا قصور کانگریس اور این سی پی کا بھی نہیں ہے ، ایم آئی ایم اور ونچت بہوجن اگھاڑی کے قریبی ذرائع سے جو اطلاعات ملی ہیں وہ حیرت انگیز ہیں ۔ ڈاکٹر پرکاش امبیڈکر نے ، جو ونچت بہوجن اگھاڑی کے سربراہ ہیں کانگریس کے سامنے ’ اتحاد‘ کی جو شرائط رکھی تھیں انہیں قبول کرنا کانگریس کے لئے ممکن نہیں تھا ۔ وہ اتنی سیٹیں مانگ رہے تھے کہ اگر کانگریس دے دیتی تو پھر کانگریس ایک قومی پارٹی نہیں ایک لوکل پارٹی کی صورت میں کھڑی نظر آتی ۔ ونچت بہوجن اگھاڑی اور ایم آئی ایم کے درمیان بھی سیٹوں کے بٹوارے پر ہی تنازعہ پیدا ہواجو اس ’ اتحاد‘ کے بکھراؤ کی صورت میں برآمد ہوا ۔ عام طور پر کہا یہ جاتا ہیکہ کانگریس نے ایم آئی ایم سے اس لئے ’ اتحاد‘ کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی کہ اس طرح کے ’ اتحاد‘ کا ہندورائے دہندگان پر منفی اثر مرتب ہوتا ۔ لیکن اطلاعات یہ ہیں کہ ایم آئی ایم نے خود کانگریس سے ’ اتحاد‘ کے لئے ہاتھ پیر نہیں مارے ! کیوں؟ اس سوال کا جواب بیرسٹر اسدالدین اویسی ہی جانیں۔!!
مہاراشٹر میں سیکولر سیاسی پارٹیوں کا کئی حلقوں میں کمزور اتحاد ، اور اکثر حلقوں میں ’ اتحاد‘ کا نہ ہونا یقیناً سیکولر ووٹوں کو منتشر کرنے کا سبب بنے گا ۔ دوسری جانب مہاراشٹر اور شہر ممبئی میں کئی حلقے ایسے ہیں جہاں سے سیکولر امیدواروں کا ایک دوسرے سے ٹکراؤ سیکولر ووٹوں کو بکھیر کر رکھ دے گا ۔ وہ امیدوار علیحدہ سے ہیں جو آزادانہ‘ میدان میں اترے ہیں ، باغیوں کی ایک اچھی خاصی تعداد الگ سے ہے ،گویا یہ کہ سیکولر ووٹوں کے بکھراؤ کے پورے پورے آثار سامنے ہیں ۔ سیکولرووٹوں میں بھی سب سے زیادہ بکھراؤ مسلم ووٹوں کا ہوگا جو ایم آئی ایم ، ونچت اگھاڑی، این سی پی ، کانگریس اور سماج وادی پارٹی کے ساتھ ساتھ آزاد اور باغی امیدواروں میں تقسیم ہوسکتا ہے ۔ مثال جنوبی ممبئی کے ممبادیوی حلقہ کی لے لیں ، یہاں سے کانگریس کے سٹنگ ایم ایل اے امین پٹیل پھر سے الیکشن لڑرہے ہیں ، وہ اپنی بہتر کارکردگی کی وجہ سے اپنے حلقے میں مقبول رہے ہیں ۔ ان کے عوامی کام بولتے ہیں ۔ انہیں انتخابی اکھاڑے میں اتار کر کانگریس نے اپنے لحاظ سے سمجھداری کا ثبوت دیا ہے ۔۔۔ اس حلقہ سے ان کے سامنے ایم آئی ایم نے بشیر موسیٰ پٹیل کو کھڑا کیا ہے جو ماضی میں این سی پی کے رکن اسمبلی رہ چکے ہیں ۔ اکھاڑے میں ونچت اگھاڑی کے امیدوار کے طور پر شمشیر خان پٹھان ہیں ، جو ریٹائرڈ پولس افسر ہیں ، ان کی اپنی خود کی سیاسی جماعت ’عوامی وکاس پارٹی‘ کے نام سے سرگرم ہے ۔
آزاد مسلم امیدوار بھی الگ سے میدان میں ہیں ۔ اب جو منظرنامہ ابھر کر سامنے آتا ہے وہ واضح طور پر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ سیکولر ووٹ بھی تقسیم ہورہے ہیں اور مسلم ووٹ بھی ۔ دلت ووٹوں کے بھی بکھرنے کا پورا کا پورا اندیشہ ہے ۔ اگر اس منظر نامے کو دیکھ کر سیکولر رائے دہندگان نے ہو ش کے ناخن نہ لئے تو یہ سیٹ شیوسینا کے امیدوار پانڈورنگ سکپال کی جھولی میں چلی جائے گی اور ممبادیوی کی سیٹ سے ایک مسلمان کی نمائندگی ختم ہوکر رہ جائے گی ۔۔۔!!
ممبئی اور ریاست کے اکثر حلقوں میں بالکل ممبادیوی حلقے جیسی ہی صورتحال ہے ۔ خطرہ یہ ہیکہ اگر سوچ سمجھ کر اور غوروخوض کرکے ووٹنگ نہ کی گئی تو اس بار مہاراشٹر اسمبلی میں مسلم نمائندوں کی تعداد گھٹ جائے گی ۔ فی الحال اسمبلی میں ۹ مسلمان نمائندے ہیں ۔ یہ وہ نمائندے ہیں جو مسلم اکثریتی حلقوں سے کامیاب ہوئے ہیں ۔ افسوس ناک امر یہ ہیکہ سیکولر پارٹیاں ،وہ چاہے کانگریس ہو یا این سی پی مسلمانوں کو امیدوار صرف اسی وقت بناتی ہیں جب انہیں مسلم اکثریتی علاقوں میں امیدوار کھڑے کرنا ہوتے ہیں! ہندو حلقوں سے یہ کوشش نہیں کی جاتی کہ کسی مسلمان کو امیدوار بنایا اور جتایا جائے ۔ این سی پی نے گذشتہ الیکشن میں ایسی ایک کامیاب کوشش کی تھی ، اس کے رکن اسمبلی حسن مشرف مشرقی مہاراشٹر کے کاگل حلقے سے کامیاب ہوئے تھے جو ہندواکثریتی حلقہ ہے ۔۔۔ بی جے پی اور شیوسینا نے تو کسی مسلمان کو امیدواری دی ہی نہیں تھی۔ اس بار شیوسینا نے ایک مسلمان عبدالستار کو سلوڑ سے امیدواری دی ہے ۔ اگر ہم 1962 سے لے کر اب تک مہاراشٹر اسمبلی میں مسلمانوں کی نمائندگی کا جائزہ لیں تو بہت ہی افسوس ناک اعدادوشمار سامنے آتے ہیں ۔ 1962 میں گیارہ مسلمان اسمبلی میں تھے ، 1967 میں یہ تعداد گھٹ کر 9 پر آگئی ، پھر 1972 میں 13 مسلمان اسمبلی میں پہنچے ، یہ اب تک کی سب سے بڑی تعداد تھی، 1980، اور 1993 میں پھر سے 13 مسلمان اسمبلی میں پہنچے تھے۔ درمیان اور بعد کے سال یعنی 1978 میں گیارہ ، 1985 میں دس ، 1990 میں سات ، 1995 میں آٹھ ، 2004 میں گیارہ ، 2009 میں گیارہ اور یہ اسمبلی جو تحلیل ہوگی اس میں 9 مسلمان اسمبلی میں رہے ہیں ۔
شکایت یہ نہیں ہیکہ بی جے پی نے ایک بھی مسلمان کو امیدواری نہیں دی یا شیوسینا نے صرف ایک مسلمان کو امیدواری دی ، یہ وہ سیاسی پارٹیاں ہیں جن کی بنیاد مسلم دشمنی پر ہے ۔ بی جے پی نے تو کھل کر یہ کہہ دیا ہے کہ اسے مسلم ووٹوں کی ضرورت نہیں ہے ۔ ۔۔ لہٰذا بی جے پی یا شیوسینا سےکوئی شکایت نہیں کی جاسکتی ، شکایت کانگریس سے ہے جو 1962 سے ہی مسلمانوں کو نظر انداز کرتی چلی آرہی ہے ۔ اس نے مسلمانوں کو یا تو ٹکٹ نہیں دیئے ، یا دیئے تو مسلم اکثریتی حلقوں سے دیئے۔ کبھی اس نے یہ کوشش نہیں کی کہ ان حلقوں سے بھی جو ہندو اکثریتی ہیں مسلم امیدواروں کو جتایا جائے ۔ یہ ہے کانگریس کا کھوکھلا سیکولرزم ! ہاں جب بھی ووٹ مانگنے اور لینے کی با ری آئی کانگریس نے مسلم ووٹوں پر پورا کا پوراحق جمایا اور خود کو سیکولر ثابت کرنے کی ہر ممکنہ کوشش کی ۔
مسلمانوں نے اسے ووٹ بھی دیا اور اس سے فریب بھی کھایا ۔۔۔ اس بار یہ خطرہ ہے کہ اسمبلی میں مسلمانوں کی تعداد 9 سے بھی گھٹ جائے گی ۔ مسلم سیٹوں کے گھٹنےکا ’ مطلب‘ بالکل واضح ہے ، بی جے پی اور شیوسینا کی سیٹوں میں اضافہ ۔ اس اضافے کا ’مطلب‘ بھی سامنے ہے ، ملک کے ’ ہندوراشٹر‘ بننے کی راہ کا آسان ہونا ۔ ملک ان دنوں مشکل حالات سے گذر رہا ہے ، آئین بدلنے کی تیاری ہے ، سیکولر اقدار کو دریابرد کرنے کی کوششیں ہیں ، جمہوریت کے خاتمے کی سعی ہے ، یعنی ہندوستان کو ایک ایسے ہندوستان میں ڈھالنے کے لئے راہیں ہموار کی جارہی ہیں جہاں اقلیتوں کا وجود بے معنیٰ ہوکر رہ جائے ۔ اس سے مقابلہ کی صرف ایک ہی صورت ہے ، سوجھ بوجھ سے ووٹنگ ، سیکولر کہلانے والوں کی کامیابی اور ان کی ہار جو اپنے کردار وعمل سے سیکولر نہیں ہیں ۔ اس کے لئے مسلمانوں کو قدم اٹھانا پڑے گا ۔ یہ کہنا عقلمندی نہیں ہے کہ ’ کیا مسلمانوں نے جمہوریت کے تحفظ کا یا سیکولرزم کو بچانے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے ؟‘۔۔۔ یہ مسلمان ہی تھے جنہوں نے آزادی کی جنگ میں آگے رہ کر قربانیاں پیش کیں ، ملک کو بچایا اور آج بھی مسلمانوں کو ہی اس محاذ پر آگے رہنا ہوگا ۔۔۔ کانگریس سے بلاشبہہ کوئی امید نہیں ہے لیکن کانگریس کو چھوڑا نہیں جاسکتا۔ الیکشن کو ہفتہ بھر رہ گیا ہے پرکانگریس کی ساری سرگرمیاں ٹھپ سی ہیں جیسے کہ اسے ہار جیت کی فکر ہی نہ ہو ۔ این سی پی ، بالخصوص شردپوار ٹکر دے رہے ہیں ۔ ’ منسے‘ نے بھی راج ٹھاکرے کی قیادت میں سرگرمیاں شروع کررکھی ہیں ۔
اگر مسلمانوں نے اور اس ملک کے سیکولر رائے دہندگان نے ہوش وحواس سے کام نہ لیا اور عین موقع پر ’بک‘ گئے تو دوباتیں ہونگی ، اسمبلی میں مسلم نمائندگی گھٹ جائے گی اور سیکولرزم کا خاتمہ ہوجائے گا لہٰذا سوچھ سمجھ کر اس مقصد کیلئے ووٹ دینا کہ اب کی بار سیکولر سرکار ہو ،بہت ضروری ہے ۔