1989 کو سوویت یونین میں کمیونزم کے زوال کا سال قرار دیا جاتا ہے۔ اس واقعہ کے بعد بہت سے مقررین نے یہ بات دہرائی کہ مولانا مودودیؒ نے کمیونزم کے زوال کی پیشین گوئی کی تھی، اور وہ بھی اس وقت جب کہ پوری دنیا میں کمیونزم کا ڈنکا بج رہا تھا۔ مزید یہ کہ مولانا مودودیؒ کی پہلی پیشین گوئی پوری ہوگئی، دوسری پیشین گوئی یعنی امریکہ میں سرمایہ دارانہ نظام کے زوال کا پورا ہونا باقی ہے۔ یہ بات آج بھی سوشل میڈیا پر کثرت سے پڑھنے کو ملتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کمیونزم کے اس زوال کا مولانا مودودیؒ کی پیشین گوئی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی مولانا مودودیؒ نے ایسی کوئی مطلق پیشین گوئی کہ تھی۔ انھوں نے تو یہ بتایا تھا کہ اگر امت مسلمہ شہادت حق کی ذمہ داری ادا کرے گی تو دنیا میں یہ تبدیلیاں واقع ہوں گی۔ اب اگر امت مسلمہ نے شہادت حق کی ذمے داری ادا نہیں کی اور وہ تبدیلیاں واقع ہوئیں تو انھیں مولانا مودودیؒ کی پیشین گوئی سے جوڑنا درست نہیں ہے۔
آپ شہادت حق کا درج ذیل اقتباس پڑھیں، جو نہایت ایمان افروز اور امت کے حوصلوں کو جلا بخشنے والا ہے۔ مولانا لکھتے ہیں:
’’میں آپ کا سخت بدخواہ ہوں گا اگر لاگ لپیٹ کے بغیر آپ کو صاف صاف نہ بتادوں کہ آپ کی زندگی کا اصل مسئلہ کیا ہے؟ میرے علم میں آپ کا حال اور مستقبل معلق ہے اس سوال پر کہ آپ اِس ہدایت کے ساتھ کیا معاملہ کرتے ہیں جو آپ کو خدا کے رسولؐ کی معرفت پہنچی ہے، جس کی نسبت سے آپ کو مسلمان کہا جاتا ہے اور جس کے تعلق سے آپ-خواہ چاہیں یا نہ چاہیں- بہر حال دُنیا میں اسلام کے نمائندے قرار پاتے ہیں۔
اگر آپ اس کی صحیح پیروی کریں اور اپنے قول اور عمل سے اس کی سچی شہادت دیں اور آپ کے اجتماعی کردار میں پورے اِسلام کا ٹھیک ٹھیک مظاہرہ ہونے لگے، تو آپ دُنیا میں سر بلند اور آخرت میں سُرخرو ہوکر رہیں گے۔ خوف اور حزن، ذِلّت اور مسکنت، مغلوبی اور محکومی کے یہ سیاہ بادل جو آپ پر چھائے ہوئے ہیں چند سال کے اندر چھٹ جائیں گے۔ آپ کی دعوتِ حق اور سیرتِ صالحہ دِلوں اور دماغوں کو مسخر کرتی چلی جائے گی۔ آپ کی ساکھ اور دھاک دُنیا پر بیٹھتی چلی جائے گی۔
انصاف کی اُمیدیں آپ سے وابستہ کی جائیں گی۔ بھروسا آپ کی امانت اور دیانت پر کیا جائے گا۔ سند آپ کے قول کی لائی جائے گی۔ بھلائی کی توقعات آپ سے باندھی جائیں گی۔ ائمۂ کفر کی کوئی ساکھ آپ کے مقابلے میں باقی نہ رہ جائے گی۔ اُن کے تمام فلسفے اور سیاسی و معاشی نظریے آپ کی سچائی اور راست روی کے مقابلے میں جھوٹے ملمع ثابت ہوں گے۔ جو طاقتیں آج ان کے کیمپ میں نظر آ رہی ہیں ٹوٹ ٹوٹ کر اسلام کے کیمپ میں آتی چلی جائیں گی۔
حتّٰی کہ ایک وقت وہ آئے گا جب کمیونزم خود ماسکو میں اپنے بچاؤ کے لیے پریشان ہوگا۔ سرمایہ دارانہ ڈیمو کریسی خود واشنگٹن اور نیو یارک میں اپنے تحفظ کے لیے لرزہ بر اندام ہوگی۔ مادّہ پرستانہ الحاد خود لندن اور پیرس کی یونی ورسیٹیوں میں جگہ پانے سے عاجز ہوگا۔ نسل پرستی اور قوم پرستی خود برہمنوں اور جرمنوں میں اپنے معتقد نہ پاسکے گی۔ اور یہ آج کا دَور صرف تاریخ میں ایک داستانِ عبرت کی حیثیت سے باقی رہ جائے گا کہ اِسلام جیسی عالم گیر و جہاں کشا طاقت کے نام لیوا کبھی اتنے بے وقوف ہوگئے تھے کہ عصائے موسیٰ بغل میں تھا اور لاٹھیوں اور رسّیوں کو دیکھ دیکھ کر کانپ رہے تھے۔‘‘
یہ وضاحت اس لیے ضروری معلوم ہوئی کہ کہیں پیشین گوئی پوری ہونے کی جھوٹی خوشی میں اس عظیم الشان تعبیر کا اصل پیغام گُم نہ ہوجائے۔
از : محی الدین غازی