سپریم کورٹ نے جمعہ کو حکومت سے پوچھا ہے کہ اگر وہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو آدھار سے جوڑنے کے لیے کسی بھی قدم پر غور کر رہی ہے تو اس کا منصوبہ بتائے۔ جسٹس دیپک گپتا کی صدارت والی بنچ نے مرکزی حکومت کو عدالت کو مطلع کرنے کے لیے کہا کہ کیا وہ سوشل میڈیا سے متعلق کچھ پالیسی تیار کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ بنچ نے مرکز سے یہ بھی پوچھا ہے کہ کیا آدھار کو سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ساتھ جوڑنے کے لیے کوئی بھی قدم اٹھانے پر غور کیا جا رہا ہے یا نہیں۔ معاملے کی سماعت کے لیے آئندہ تاریخ 24 ستمبر کی طے کی گئی ہے۔
Supreme Court asks Centre to inform it by September 24 whether it is contemplating any move on framing policy to regulate social media and linking of social media account of people with Aadhaar. pic.twitter.com/LwxM9hihfs
— ANI (@ANI) September 13, 2019
مختلف ہائی کورٹس میں داخل کئی عرضیوں کی منتقلی کا مطالبہ عدالت عظمیٰ میں فیس بک نے کیا ہے جس پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ کا یہ حکم آیا ہے۔ فیس بک نے کہا ہے کہ معاملوں کی منتقلی سے الگ الگ ہائی کورٹوں کے یکسر مخالف فیصلوں کے اندیشے سے بچا جا سکے گا اور انصاف کا ہاتھ مضبوط ہوگا۔
عدالت عظمیٰ کو فیس بک نے بتایا کہ صرف مدراس ہائی کورٹ میں دو عرضیاں اور بمبئی ہائی کورٹ و مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں ایک ایک عرضیاں داخل ہیں۔ تینوں ہائی کورٹ میں داخل سبھی عرضیوں میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ آدھار یا حکومت کے ذریعہ جاری کسی دیگر شناختی کارڈ کو سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو سرٹیفائیڈ کرنے کے لیے لازمی کیا جانا چاہیے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
