کیا بی جے پی اپنی حلیف جماعتوں سے نجات پانا چاہتی ہے؟

لکھنؤ: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے صاف کر دیا ہے کہ 2022 کے اسمبلی انتخابات میں وہ اپنے موجودہ اتحادیوں کے بغیر میدان میں اترے گی۔ سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی سے نجات پانے کے بعد پارٹی اب آئندہ اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں ’اپنا دل ‘ کو بھی درکنار کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

بی جے پی کے ایک اعلیٰ رہنما نے کہا، ’’جن سیٹوں پر ضمنی انتخابات ہونے ہیں پارٹی ان سبھی پر انتخاب لڑے گی۔‘‘

خبر رساں ایجنسی اے آئی این ایس نے ذرائع کے حوالہ سے خبر دی ہے کہ پرتاپ گڑھ اسمبلی سیٹ پر اپنا دل کے رکن اسمبلی سنگم لال گپتا کے لوک سبھا انتخاب میں پرتاپ گڑھ سیٹ سے بی جے پی کے ٹکٹ پر جیت درج کرنے کے بعد سیٹ خالی ہو گئی تھی۔ بی جے پی اس سیٹ سے اپنا امیدوار اتارنے کی تیاری کر رہی ہے۔

بی جے پی اس سیٹ سے اپنا دل کو لڑانے کے موڈ میں نہیں ہے، جس پر انوپریا پٹیل کی قیادت والی پارٹی نے جیت حاصل کی تھی۔ ذرائع کے مطابق اپنا دل بی جے پی سے ناراض ہے لیکن اس کے رہنماؤں نے بیان دینے سے انکار کر دیا ہے۔

بی جے پی کے ایک رہنما نے کہا، ’’ہم اپنی ذاتی قیادت کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں جو مختلف ذاتوں، طبقات کی نمائندگی کرے اور ہمیں دیگر پارٹیوں پر انحصار نہ کرنا پڑا۔‘‘

راجبھر طبقہ کی نمائندگی کرنے والی سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی کے علیحدہ ہونے کے بعد بی جے پی نے اس نقصان کے ازالہ کے لئے انل راجبھر کو کابینہ میں شامل کیا تھا۔

اپنا دل کُرمی قیادت والی پارٹی ہے لیکن حال ہی میں کابینہ کی توسیع میں یوگی آدتیہ ناتھ نے دو کُرمی رہنماؤں نیلما کٹیار اور رام شنکر سنگھ پٹیل کو کابینہ میں شامل کیا ہے۔ واضح ہے کہ کرمی طبقہ کو مائل کرنے کی بی جے پی اپنا دل سے الگ ہو کر سوچنا چاہتی ہے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading