کیا ادھو ٹھاکرے کی دھمکیاں مندر تعمیر کرواسکتی ہیں؟؟؟

ایم۔ایم۔سلیم۔(اکولہ)

الیکشن کی آہٹ ہے ایسے میں سبھی سیاسی پارٹیاں ووٹروں کو لبھانے اور اپنی اپنی سیاسی روٹیاں سیکنے میں مصروف عمل ہیں۔ ہندوستانی سیاست اور ان کے سیاستدانوں کا ہمیشہ سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے کیلئے کسی نہ کسی سیڑھی یا کسی کے کندھے کا استعمال ضرور کرتے ہیں، تا کہ اقتدار کی کرسی پر بیٹھا جا سکے۔

بابری مسجد ایک ایسا معاملہ ہے جس کے ذریعے سیاسی لوگ اور سیاسی پارٹیاں برسوں سے اپنی چال چلتے آرہے ہیں۔ اور سیاسی روٹیاں سینکتے آرہے ہیں۔ ٹھیک چار سال پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی نے رام مندر بنانے کا وعدہ کیا تھا اور اسی کے سہارے اقتدار پر قابض ہو گئی تھی۔ لیکن 4 سال پہلے کئے گئے ایک بھی وعدوں کو پورا نہ کرنے پر دوبارہ اسی کے سہارے عوام کو ورغلا کر اپنی طرف متوجہ کرکے ووٹ حاصل کرنا چاہ رہی ہے۔

الیکشن قریب ہے، اسی کے تحت ایک مرتبہ پھر سے بابری مسجد کے معاملے کو اٹھایا جا رہا ہے۔ حالانکہ یہ معاملہ ابھی عدالت میں زیر غور ہے۔ اور قانون یہ کہتا ہے کہ جو معاملہ عدالت میں زیر غور ہو اس میں مداخلت نہیں کرنا چاہیے۔ جو توہین عدالت کے مترادف ہے۔ لیکن سیاسی لوگ بے خوف وخطر آئے دن کھلے عام اس تعلق سے زہرافشانی کر رہے ہیں۔ اور قانون کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔

حال ہی میں ایودھیا میں وشو ہندو پریشد نے دھرم سبھا کا انعقاد کیا۔وشو ہندو پریشد بھاجپا کی ہی ذیلی تنظیم ہے، ایسے میں مراٹھی مانوس کی بات کرنے والی شیوسینا کہاں پیچھے رہنے والی تھی؟ لہٰذا اس نے بھی سیاست کے شطرنج پر چال چلنا شروع کر دیا۔ پارٹی کے سربراہ ادھو ٹھاکرے اپنے شیوسینکوں کے ساتھ ایودھیا پہنچ گئے۔ اور بڑے بے آبرو ہو کر واپس لوٹے۔ بے آبرو اس وجہ سے کہ جتنی بھیڑ کے جمع ہونے کا یہ لوگ دعویٰ کررہے تھے اس سے بہت ہی کم بھیڑ جمع ہوئی ہے۔ کچھ لوگوں کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ جو لوگ ممبئی سے ایودھیا گئے ہیں وہ سب اتر بھارتی تھے، جو موقعہ پا کر اپنے گاؤں ملاقات کی غرض سے اس بہانے چلے گئے۔ ایودھیا پہنچ کر وہاں ادھو نے وزیراعظم نریندر مودی کو خوب کونسا۔ ساتھ ہی کمبھ کرن تک کہہ ڈالا۔

ادھو ٹھاکرے بڑے جوش و خروش کے ساتھ وہاں پہنچے لیکن ان سے کچھ سوالات ہیں کیا وہ اس کے جوابات دے پائیں گے؟

جب سے مہاراشٹر میں بھاجپا اور شیوسینا کی سرکار بنی ہے تب سے یہ کھیل جاری ہے۔ شیوسینا حکومت میں ہو کر بھی ہر معاملے میں اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے۔مہاراشٹر میں نہ جانے کتنے کسان خودکشی کرنے پر مجبور ہیں؟ کتنے ہی لوگ بھوک سے مر رہے ہیں؟ بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ پانی کی سطح پر دن بدن کمی ہوتی جا رہی ہے! لہذا لوگ پانی کو بھی ترس رہے ہیں! کئی جگہوں پر سوکھا پڑا ہوا ہے! فصلیں تباہ و برباد ہو رہی ہیں۔ دوسری مرتبہ کسانوں پر فصل تیار کرنے کی نوبت آرہی ہے۔ کئی کسان قرض میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ شیوسینا کتنے برسوں سے ممبئی میونسپل کارپوریشن پر قابض ہے۔ اب تک نہ جانے کتنے لوگ ممبئی کے گڑھوں میں گر کر بے موت مر چکے ہیں؟ گویا ممبئی کی گڑھے چلتی پھرتی قبریں بنتے جا رہے ہیں۔ اور نہ جانے ایسے کتنے مسائل سے مہاراشٹر کی عوام پریشان ہے؟ ادھو جی آپ سے گزارش ہے کہ آپ ان مسائل کی طرف بھی دھیان دیجئے۔ ایودھیا میں کیا بنے گا اس کا فیصلہ تو عدالت کرے گی۔ لیکن مہاراشٹر کے عوام کے حق میں بہتر فیصلہ آپ کر سکتے ہیں۔کیونکہ آپ حکومت میں ہے۔

آپ یہ بھی سمجھ لیجئے کہ وقت بدل چکا ہے۔ اور عوام یہ بھی سمجھ چکی ہے کہ ان کے سامنے ایک بات پر قائم رہنے والا بال ٹھاکرے نہیں ہے بلکہ جیب میں استعفیٰ لیکر گھومنے والا اور صرف دھمکیاں دینے والا ادھو ٹھاکرے ہیں۔ آخر عوام بھی بیدار ہو چکی ہے۔ اور اب وہ آپ کے بہکاوے میں نہیں آنے والی۔ شاید اس کا پتہ تو آپ کو ایودھیا میں جمنے والی بھیڑ سے ہی چل گیا ہوگا؟ کب تک آپ دوہری پالیسی اپناتے رہو گے؟ آپ حکومت میں ہے۔ یقیناً کچھ کر سکتے ہیں۔ اپنی یہ گیدڑ بھپکیاں بند کیجئے۔ اور عوام کے لیے کچھ کیجئے۔ ان گیدڑ بھپکیوں سے کچھ نہیں ہونے والا۔۔۔۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading