انڈیا اور پاکستان میں سمندری طوفان ’بپرجوائے‘ کا خطرہ برقرار ہے اور دونوں ممالک کی حکومتوں کی جانب سے ساحل سمندر سے قریب آبادیوں کو خالی کرو الیا گیا ہے۔
سمندری طوفان کے خطرے پیش نظر انڈیا میں بھی ساحل کے قریب رہنے والے لوگوں کو بھی حکومت کی جانب سے احتیاط برتنے کا کہا گیا ہے اور کسی بھی قسم کے نقصان سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
دونوں ممالک میں ’بپرجوائے‘ کے حوالے سے میڈیا بھی ہر چھوٹی سے چھوٹی خبر کو بریک کر رہا ہے۔ ایسے میں انڈین ٹی وی چینل ’ریپبلک‘ کی ایک اینکرپرسن سویتا تریپاٹھی کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جو ٹوئٹر صارفین کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔
ویڈیو میں لال چھتری ہاتھوں میں پکڑے اینکرپرسن سویتا تریپاٹھی کہہ رہی ہیں کہ ’اس وقت ہم دوارکا پہنچ چکے ہیں گجرات میں، اتنی تیزی سے ہوائیں چل رہی ہیں کہ کھڑا ہونا بھی مشکل ہو رہا ہے کیونکہ بپرجوائے طوفان جو آ رہا ہے۔‘
#WATCH : Republic Bharat’s reporting of the incoming Cyclone Biparjoy from Noida studio holding an umbrella is not the journalism that we need. This is nothing related to providing information to the mass, but it’s just to create a sensation.
Also, the visuals of the report are… pic.twitter.com/FX7lJdSYOQ— ADITYA VIKRAM (@AV_JASWAL) June 15, 2023
’ریپبلک ٹی وی‘ کی اینکرپرسن جہاں کھڑی ہیں وہ ایک سٹوڈیو ہے اور اس کے پیچھے ایک سکرین لگائی گئی ہے جس پر طوفانی ہوائیں چلتی نظر آ رہی ہیں اور سمندری پانی بھی نظر آ رہا ہے۔
جس سٹوڈیو میں سویتا تری پاٹھی کھڑی ہیں وہ گجرات میں نہیں بلکہ اتر پردیش کے شہر نوئیڈا میں ہے۔
اس ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے ادتیا وکرم نامی صارف نے لکھا کہ ’اس صحافت کا تعلق معلومات فراہم کرنے سے نہیں بلکہ سنسنی پھیلانے سے ہے۔‘
https://twitter.com/HillolDeka/status/1669271964505210881?t=VA50NfDOX00EC27OMi7oew&s=19
انہوں نے مزید لکھا کہ ’جو مناظر رپورٹ میں استعمال کیا گئے ہیں وہ بھی گمراہ کن ہیں کیونکہ یہ ویڈیو فلوریڈا میں آنے والے طوفان کی ہے اور دوارکا گجرات کی نہیں۔‘
سویتا تری پاٹھی کی سوشل میڈیا پروفائل کے مطابق وہ ’ریپبلک‘ جوائن کرنے سے پہلے ’ذی نیوز‘س میں بھی کام کر چکی ہیں اور اتر پردیش میں رہائش پزیر ہیں۔