کٹھوعہ میں مشتعل مزدوروں نے فیکٹری پر دھاوا بول دیا، پولیس کا لاٹھی چارج

download (2)جموں، 8 مئی (یو این آئی) جموں وکشمیر کی سب سے بڑی فیکٹری ‘چناب ٹیکسٹائل مل’ میں کام کرنے والے غیر مقامی مزدوروں نے جمعے کو تنخواہوں کی غیر تسلی بخش ادائیگی کو لیکر مذکورہ فیکٹری پر دھاوا بول کر شدید توڑ پھوڑ کردی۔ فیکٹری کی املاک کو شدید نقصان پہنچانے کے بعد ان مزدوروں نے جموں – پٹھانکوٹ قومی شاہراہ کو بلاک کردیا جس کے بعد جموں وکشمیر پولیس اور دیگر سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا جس میں کچھ مزدور زخمی ہوگئے۔


ایس ایس پی کٹھوعہ ڈاکٹر شیلندر کمار مشرا بھی موقع پر پہنچے اور پبلک ایڈرس سسٹم کے ذریعے مزدوروں سے بات کی اور ان کے غصے کو ٹھنڈا کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے مزدوروں سے بات چیت کے دوران انتہائی ہمدردانہ اپروچ اپنایا اور انہیں یقین دلایا کہ وہ ان کے مطالبات فیکٹری کی انتظامیہ کے ساتھ اٹھائیں گے۔
مزدوروں سے بات چیت کے دوران جب ایک مزدور نے فیکٹری پر پتھر مارا تو ایس ایس پی نے ان سے مخاطب ہوکر کہا: ‘جو لوگ اپنی ماں کو پیٹتے ہیں نا وہی والا کام آپ کررہے ہو۔ جو مل تمہیں کھانا کھلا رہی ہے آپ اس کو ہی توڑ رہے ہو۔ یہ بہت ہی گندا کام ہے’۔


موصولہ اطلاعات کے مطابق جموں – پٹھانکوٹ روڑ پر واقع ‘چناب ٹیکسٹائل مل’، جو کہ جموں وکشمیر کی سب سے بڑی فیکٹری ہے، میں کام کرنے والے سینکڑوں غیر مقامی مزدور جمعہ کی صبح فیکٹری کے احاطے میں جمع ہوئے اور پوری تنخواہ کی واگزاری کے حق میں نعرے بازی کرنے لگے۔ ان کا الزام تھا کہ لاک ڈائون کے باوجود فیکٹری کی انتظامیہ سے جڑے افراد کو پوری تنخواہ ملتی ہے جبکہ کاریگروں اور مزدوروں کے بینک کھاتوں میں پچاس فیصد تنخواہ ہی جمع کی گئی ہے۔
احتجاجی مزدوروں نے فیکٹری کے اندر توڑ پھوڑ شروع کردی۔ در دروازے تھوڑے، شیشوں کو چکنا چور کرنے کے علاوہ فیکٹری کے دفتری ریکارڈ، کرسیوں اور کمپیوٹروں کو جموں – پٹھانکوٹ قومی شاہراہ پر پھینک دیا اور شاہراہ کو گاڑیوں کی آمدورفت کے لئے بند کیا۔ اس بیچ جب پولیس اور دیگر سیکورٹی فورسز نے موقع پر پہنچ کر لاٹھی چارج شروع کیا تو مشتعل مزدوروں نے ان پر پتھرائو کیا اور پولیس کی ایک گاڑی کی بھی شدید توڑ پھوڑ کردی۔
ایک احتجاجی نے نامہ نگاروں کو بتایا: ‘عملے کے افراد کو برابر تنخواہ دی جارہی ہے جبکہ ہمیں تنخواہ کے بجائے ماہانہ دو ہزار روپے دے رہے ہیں۔ دو ہزار روپے سے ہم اپنا گھر کیسے چلا پائیں گے۔ ہم کام کررہے ہیں تو تنخواہ کیوں نہیں دیں گے؟ پولیس نے آکر ہم پر لاٹھی چارج کیا۔ ہم اپنی ماہانہ تنخواہ مانگ رہے تھے۔ ہم ملک کی مختلف ریاستوں سے تعلق رکھتے ہیں’۔
اترپردیش سے تعلق رکھنے والی ایک احتجاجی خاتون کا کہنا تھا: ‘میں بارہ سال سے یہاں کام کررہی ہوں۔ ہم سے بارہ گھنٹوں تک کام کرا رہے ہیں لیکن تنخواہ نہیں دیتے ہیں’۔
مزدوروں کے ایک گروپ نے کہا کہ جب پولیس نے ہم سب پر لاٹھی چارج کیا تو ہمیں مجبوراً پتھرائو کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ہم فیکٹری انتظامیہ سے ہماری واجب الادا تنخواہ مانگتے ہیں تاکہ ہم اپنے گھروں کو جاسکے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading