نئی دہلی، 14 جولائی (یو این آئي)ملک میں 60 فیصد سے زیادہ والدین یا سرپرستوں کی روزی روٹی کورونا وائرس (کووڈ – 19) کی عالمی وبا سے پوری طرح یا بری طرح متاثر ہوچکی ہے جس سے ان بچوں کافی منفی اثر پڑا ہے۔ورلڈ ویژن انڈیا نے سول سوسائٹی کی تنظیموں اور رہنماؤں سے فوری اپیل کی ہے کہ وہ ہندوستان کے سب سے کمزور افراد خصوصا بچوں پر کورونا وائرس (کووڈ -19) کے مہلک طویل مدتی اثرات پر توجہ دیں۔
ایشیاء کے سب سے کمزور حساس بچوں پر کورونا وائرس کے اثرات کا انکشاف کرتے ہوئے ورلڈ ویژن ایشیاء پیسیفک کی جانب سے جاری ارلی ریکورٹی اسیسمنٹ رپورٹ بتاتی ہے کہ ہندوستانی خاندانوں پر پڑنے والی معاشی، نفسیاتی اور جسمانی کشیدگی نے بچوں کی فلاح و بہبود کے مجموعی پہلوؤں پر منفی اثر ڈالا ہے، جن میں خوراک، تغذیہ، صحت کی نگہداشت، ضروری ادویات، حفظان صحت اور سنیٹیشن کی سہولیات تک رسائی، نیز بچوں کے تحفظ اور اور سلامتی شامل ہے۔
پندرہ سالہ شیتل کا کہنا ہے کہ "ہماری برادری میں لوگ بہت مایوس ہوچکے ہیں۔ کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ہم ایسی مایوسی دیکھیں گے جو بچوں کو کام کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ اس عرصے دوران بہت سے بچے بچہ مزدوری میں ملوث ہوچکے ہيں۔ بہت سارے بچے ایسے ہیں جو سڑکوں پر سبزی بیچ رہے ہیں، کیونکہ اس کے والدین کام پر نہیں جاسکے ہیں اور اس سے خاندان کی روزی روٹی متاثر ہوئی ہے۔ والدین کی حالت زار دیکھ کر بچے مایوس ہوگئے ہيں”۔