نئی دہلی، 8 اپریل (یو این آئی) مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ ملک میں ہائڈاکسی کلوروکوین کی کوئی کمی نہیں ہے اور اس کا کافی تعداد میں اسٹاک ہے اور مستقبل میں بھی اس دوا کی کوئی کمی نہیں رہے گی۔وزارت صحت کے ترجمان لو اگروال نے بدھ کو پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس دوا کا سب سے زیادہ تیار کرنے والا ہے اور ملک میں دواکے اسٹاک پر اعلی سطحی نگرانی رکھی جا رہی ہے اور مستقبل میں بھی اس کی کوئی کمی نہیں آنے دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ دوا صرف رجسٹرڈ پریکٹیشنرز کے مشورہ پر دی جاتی ہے اور اسے کوروناوائرس میں مبتلا مریضوں، ان کا علاج کر رہے ڈاکٹروں یا مریضوں کی دیکھ بھال کررہے رشتہ داروں کو ہی ’پروفائلیکسس‘ کی بنیاد پر دیا جاتا ہے۔ اس دوا کو ہر کسی کو نہیں لینا چاہئے کیونکہ اس کے کافی برے اثرات ہوتے ہیں۔انہوں نے کورونا وائرس انفیکشن کی صورت حال کے بارے میں بتایا کہ ملک میں منگل سے بدھ تک اس 773 نئے معاملے سامنے آنے کے بعد متاثرین کی تعداد بڑھ کر 5194 تک پہنچ گئی ہے۔کورونا وائرس انفیکشن کی وجہ اب تک 149 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور 402 مریض ٹھیک ہونے کے بعد ہسپتال سے چھٹی دے دی گئی ہے۔ مسٹر اگروال نے بتایا کہ ملک اس وقت ایک ایسے متعدی بیماری کا سامنا کر رہا ہے جو پوری دنیا میں پھیل چکی ہے اور ایسے میں ہمیں سماجی فاصلے اور لاک ڈاؤن کی ہدایات پر سختی سے عمل کرنا پڑے گا کیونکہ کسی ایک سطح پر کی گئی لاپرواہی اب تک کی ساری محنت بیکار کر دے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی تک جو معلومات سامنے آئی ہے، اس کی بنیاد پر کووڈ -19 کے 80 فیصد معا لے بہت ہی ہلکے پھلکے علامات والے ہوتے ہیں اور اس طرح کے معاملات سے نمٹنے کے لئے وزارت صحت نے اب ورونا وائرس سے متاثرین کے علاج کی نئی اہم حکمت عملی بنائی ہے اور اسے تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
پہلے زمرے میں کووڈ کیئر سینٹر میں کورونا وائرس انفیکشن کے مشتبہ یا ہلکے علامات والے مریضوں کو رکھا جائے گا اور یہ عارضی بھی ہو سکتے ہیں اور سرکاری عمارت، ہوٹل، لاج یا دیگر عمارت بھی ہو سکتے ہیں یا پہلے سے بنائے گئے کورونا سینٹروں کا اس کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے-دوسرے زمرے ’ڈیڈی کیٹیڈ کووڈ -19 ہیلتھ سینٹروں‘ کی ہے جن میں علاج کے طور پر درمیانے زمرے کے سنگین علامات والے مریضوں کو رکھا جائے گا۔ ان میں کسی ہسپتال کے مکمل علاقے ہی کووڈ -19 مریضوں کے ہو سکتا ہے یا کوئی خاص بلاک اس کے لئے بنایا جا سکتا ہے۔
ان میں آکسیجن پر مشتمل بستر کی سہولت ہونی ضروری ہے۔ ان میں داخلی اور خارجی دروازے مختلف ہوں گے تاکہ انفیکشن کا خطرہ نہ ہو۔ تیسرے زمرے میں کووڈ کے مریضوں کے لئے خاص طور پر بنائے گئے ہسپتال ہیں جن میں کورونا وائرس کے سنگین مریضوں کو رکھا جائے گا اور یہاں آئی سی یو، وینٹی لیٹر اور آکسیجن کی سہولت ہوگی۔ اس طرح کی گائڈلائنس تمام ریاستوں کو بھیج دی گئی ہیں اور ان میں علاج کی وسیع سہولت ہوگی اس درجہ بندی کی بنیاد پر تمام ریاستوں کو کورونا کے معاملات سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔
مسٹر اگروال نے بتایا کہ کسی بھی علاقے میں کورونا وائرس انفیکشن کا ایک بھی معاملہ پایا جانا مرکزی حکومت کے لئے ایک ’ہاٹ اسپاٹ ہے اور یہ بات ذہن میں رکھ کر حکومت اس مریض کی کانٹیکٹ ٹریسنگ کرتی ہے کہ وہ اس مدت میں کتنے لوگوں سے ملا ہے اور اس کا جغرافیائی دائرہ کیا تھا۔ اسی بنیاد پر محکمہ صحت کی ٹیم کے تمام لوگوں سے مل کر علاقے خاص کے لئے مہم یعنی’کنمنٹ پلان’‘شروع کرتی ہے۔
وزارت داخلہ کی ترجمان پونیہ سلیلا شریواستو نے بتایا کہ لاک ڈاؤن کی التزامات کے ریاستی حکومتیں سختی سے عمل کرا رہی ہیں اور تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ضروری اشیاء اور خدمات کی پوزیشن تسلی بخش ہے۔ اس کے علاوہ جن ریاستوں یا اضلاع میں کورونا وائرس انفیکشن کے مزید معاملے سامنے آئے ہیں، وہاں ضلع انتظامیہ سخت نگرانی رکھ رہی ہے اور اس میں کمیونٹی رہنماؤں کی بھی مدد لی جارہی ہے تاکہ زیادہ تعداد میں لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔ اس کے علاوہ بینکوں، بازاروں اور دیگر مقامات پر سماجی فاصلے بنانے کو مکمل طور یقینی بنایا ہے۔ اس کے علاوہ ضروری اشیاء کی کالابازاری اور ذخیرہ اندوزی کو روکنے کے لئے داخلہ سکریٹری نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف سکریٹریوں کو ضروری اشیاء ایکٹ، 1955 کی دفعات لاگو کرنے کو کہا ہے جن میں ریاستی حکومتیں راشن کے اسٹاک کی حد طے کر سکتی ہیں، قیمتیں طے کر سکتی ہیں اور راشن ڈیلروں کے اکاؤنٹ کو چیک کر سکتی ہیں۔