گیتا نے 22 دسمبر 2017 کو نوٹ بندی کے بعد بزنیس اسٹینڈرد کو دیئے اپنے انٹرویو میں اس وقت کہا تھا کہ ہندوستان کا کوئی بھی بڑا صنعتکار نوٹ بندی کو صحیح قدم نہیں سمجتھا.
نیویارک:بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) میں ایک اور ہندوستانی شہری نے جگہ بنالی ہے اور اہم عہدے پر فائز ہوگئی ہیں۔ گیتاگوپی ناتھ 46 سالہ خاتون بین الاقوامی مالیاتی فنڈکی چیف اکانومنسٹ مقرر کی گئی ہیں۔
جی ایس ٹی پر بھی انھوں نے کہا تھا کہ جی ایس ٹی جلد بازی میں لیا گیا قدم ہے.نوٹ بندی میں وقت برباد کرنے کے بجائے ہندوستان کو جی ایس ٹی روبہ عمل لانے کیلئے وقت کا استعمال کرنا چاہئے تھا.
ہارورڈ یونیورسٹی کی پروفیسر گیتا گوپی ناتھ آئی ایم ایف میں مورس اوبسفیلڈ کی جگہ لیں گی، راگھورام راجن کے بعد گیتا آئی ایم ایف میں یہ عہدہ حاصل کرنے والی دوسری بھارتی شہری ہیں۔ان کے حوالے سے آئی ایم ایف سربراہ کا کہنا ہے کہ گیتا دنیا کی مایہ ناز ماہر اقتصادیات اور وسیع تجربے کی حامل ہیں۔
کون ہے گیتا گوپی ناتھ
گوپی ناتھ کی پیدائش ہندوستان میں ہوئی تھی اور وہیں پلی بڑھیں ۔ اس وقت امریکی شہری گیتادہلی یونیورسٹی سے آرٹ فیکلٹی سے گریجویٹ ہیں ۔ انہوں نے پہلے دہلی یونیورسٹی کے ‘دہلی اسکول آف اکنامکس ‘ اور بعد میں واشنگٹن یونیورسٹی سے ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ 2001 ء میں پرنسیٹن یونیورسٹی سے اپنے پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد،اسی سال شکاگو یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر کام شروع کر دیا۔ 2005 سے، وہ ہارورڈ یونیورسٹی میں پڑھا رہی ہیں.
ہندوستانی نژاد خاتون کے اتنے اہم عہدے پر فائز ہونے کے بعد ملک میں گوپی ناتھ کے ماضی میں دیئے گئے بیانات کو بھی اہمیت حاصل ہوگئی ہے. رویش کمار این ڈی ٹی وی نے بھی اپنے بلاگ پر لکھا کہ…
جب ہارورڈ کی گیتا ہارڈورک والے مودی سے ملیںگی، تو بیک گراؤنڈ میں نوٹ بندی کی اسپیچ بجے گی!
نریندر مودی نے کم سے کم ایک ایسا اقتصادی سماج تو بنا دیا ہے جو نتیجے سے نہیں نیت سے تجزیہ کرتا ہے۔ حماقت کی ایسی اقتصادی جیت کب دیکھی گئی ہے؟ گیتا گوپی ناتھ جیسی ماہر اقتصادیات کو نیت کا ڈیٹا لےکر اپنا نیا ریسرچ کرنا چاہیے ۔