کنوٹ:28/ مئی (اکرم چوہان) گزشتہ روز دریائے پین گنگا پر پارٹی میں جانے والی دو بہنوں سمیت ایک خاندان کے تین افراد ڈوب گئے۔ جس کے بعد پولیس نے اس معاملے میں متوفی ممتا کے شوہر جاوید شیخ سمیت دو لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔کنوٹ تعلقہ میں مارےگاؤں (لوئر) ین گنگاندی میں دو بہنوں اور ایک نوجوان خاتون کے ڈوبنے کے معاملے میں منگل کو کنوٹ پولیس نے دو نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے۔ انکے خلاف مختلف دفعات کے تحت ظلم کا مقدمہ درج کیا گیا ۔
پن گنگا ندی میں ڈوبنے والوں کے نام ممتا شیخ جاوید (21 سال)، پائل دیوی داس کامبلے (16 سال) اور اس کی بہن سواتی دیوی داس کامبلے (12 سال) ہیں۔کنوٹ تعلقہ کے مارےگاؤں (کھا) سے تعلق رکھنے والے دیوی داس کامبلے کے خاندان کے دس افراد پیر کی دوپہر مارےگاؤں میں پی گنگا ندی کے کنارے پارٹی میں گئے تھے۔ کھانے کے بعد دیوی داس کامبلے کے داماد جاوید شیخ اور اس کے ساتھی متھن کووار نے جاوید کی بیوی ممتا کو دریا میں اتار دیا حالانکہ وہ جانتے تھے کہ وہ تیر نہیں سکتی۔
ممتا کو ندی میں اترتے دیکھ کر دو بہنیں پائل اور سواتی دیوی داس کامبلے بھی پانی میں اتر گئیں۔اس کے بعد دریا میں ایک دوسرے پر پانی پھینکتے ہوئے پانی کا اندازہ نہ ہونے کی وجہ سے تین میں سے ایک لڑکی ڈوب گئی۔ باقی دو اسے بچانے کی کوشش کرنے لگے لیکن اسکی کو بچانے کی کوشش میں باقی دو بھی ڈوب گئیں۔ چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ جب تینوں ڈوب رہے تھے تو انہیں بچانے کے بجائے جاوید اور اس کا ساتھی ندی کے کنارے سے بھاگ گئے۔
لوگوں نے جاوید کو بھاگتے ہوئے پکڑ لیا۔اس معاملے میں کنوٹ پولیس نے پہلے حادثاتی موت کا مقدمہ درج کیا تھا۔ اس کے بعد ضلع سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سری کرشنا کوکاٹے کی رہنمائی میں ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ڈاکٹر کھنڈراؤ دھرنے، کنوٹ کے ڈی وائی ایس پی رام کرشن ملاگھنے نے ملزم جاوید سے اچھی طرح پوچھ گچھ کی۔ اس کے بعد تینوں کی موت کے سلسلے میں لکشمی دیوی داس کامبلے کی شکایت پر پولیس نے متوفی ممتا کے شوہر شیخ جاوید (ساکن سائفل تعلقہ ماہور) اور متھن کوور سدانند کووار کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس نے ان کے خلاف سیکشن 304، 34 کے ساتھ ساتھ درج فہرست ذاتوں اور قبائل کے انسداد مظالم ایکٹ کی 3 (2)، (V) (A) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس تمام زاویوں سے معاملے کی جانچ کر رہی ہے اور ڈی وائی ایس پی رام کرشن ملگھن اس معاملے میں مزید تفتیش کر رہے ہیں۔