شہاب مرزا
8483987595- 9595024421
ہندوستانی تہذیب وثقافت کے علم بردار حضرت امیر خسرو نے کشمیر کے تعلق سے فارسی زبان میں شعر کہا تھا جو کچھ اس طرح تھا
اگر فردوس برروئے زمین است
ھمین است و ھمین است و ھمین است۔۔۔۔۔
جس کےمعنی یہ ہوتےہیں کہ روئے زمین پر اگر جنت کہیں ہے تو وہ یہیں ہے یہیں ہے اور صرف یہیں ہے ، یہ شعر جنت نشان کشمیر کی شناخت بن گیا اور پوری دنیا کشمیر کو جنت نشاں کے نام سے جانتی ہے ، لیکن وہی کشمیر جو کبھی ایشیا کا سوئزرلینڈ اور جنت نشان کہا جاتا تھا آج لہولہان ہے ، پچھلی تین دہائیوں سے اس وادی بہاراں میں کشت وخون کی تاریخ رقم کی جارہی ہے ، بندوق کی گولیاں ، حراستی اموات، املاک کی تباہی اور دہشت کا ماحول ان کشمیریوں کا مقدر بن چکا ہے،پلیٹ گنوں سےچھلنی ہوتے ہزاروں لہولہان معصوم چہرے،عصمت دری کی شکار بے بس خواتین ، لاپتہ شوہروں کی منتظر نیم بیوہ خواتین اور تحفظ کےنام پر اپنے ہی گھروں میں قید عام زندگی یہ ہے کشمیر کی موجودہ تصویر ایک ایسی وادی جہاں کبھی خوبصورت نغمےگونجا کرتے تھے آج وہاں کےباشندے موت کے سایے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور ان بے بسوں بے کسوں اور مجبوروں کی حب الوطنی کا فیصلہ نیوز اینکرس اور سیاسی قائدین کرتے ہیں۔
ملک کی آزادی کے بعد سے کشمیر کا مسئلہ ہندوستان کے لیے ناسور ثابت ہوا ، اس مسئلے کو لیکر پڑوسی ملک پاکستان سے ہم تین جنگیں لڑ چکے ہیں ان جنگوں کو لیکر دونوں ملکوں کےدعوے کچھ بھی ہو لیکن تختہ مشق اگر کوئی بنا ہے تو وہ ہے کشمیری عوام ، یہ بات اب کسی سے پوشیدہ نہیں ہیکہ کشمیر کی اکثریت آزادی چاہتی ہے ، اور اسی آزادی کے لیے ہر پلیٹ فارم پر کشمیری آواز اٹھاتے ہیں، ہندوستان سے آزادی کا کشمیریوں کا یہ مطالبہ بحثیت ہندوستانی ہمیں قطعی منظور نہیں کیونکہ ہندوستان کشمیر کو اپنا اٹوٹ حصہ مانتا ہے ، لیکن بحیثیت انسان ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ آخر کب تک ہم اس آواز کو بزور قوت صلب کرتے رہینگے اور کب تک
ہماری تمام تر توانائیاں کشمیر کو بچانے میں صرف ہوتی رہے گی اور کب تک ہم اپنے جوانوں کو موت کے منہ میں دھکیلتے رہینگے ،
دوسرا پہلو یہ ہیکہ اس پورے منظر نامے میں اگر کوئی پس رہا ہے تو وہ ہے عام کشمیری، انسانی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو فلسطین اور
افغان اقوام کے بعد اگر کسی نے سب سے زیادہ لاشیں ڈھوئیں ہیں تو وہ ہیں کشمیری عوام ، پلوامہ کا دھماکہ کشمیر میں کوئی پہلا دھماکہ نہیں ہے ، دھماکے تو اس سرزمین کے معمولات کا حصہ ہے ، ہاںاتناضرور کہا جاسکتا ہیکہ پچھلی دو دہائیوں میں یہ سب سے سنگین نوعیت کا دھماکہ رہا جس میں ہمارے چالیس سےزائد جوان کام آگئے ، لیکن اس حملے کو جس انداز میں پیش کیا گیا اور زعفرانی میڈیا نے جو کہرام مچایا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پوری کشمیری قوم مانو دہشت گرد بنا دی گئی ، اس حملے اور جوانوں کی شہادت کا ٹھیکرا بڑے سلیقے سے کشمیریوں کے سر پھوڑا گیا نتیجے میں ملک بھر میں مقیم کشمیری طلبا پرعرصہ حیات تنگ کردیا گیا اور کئی ایک پر تو حملے بھی کیے گئے ۔
آخر ان کشمیری نوجوانوں کا قصور کیا ہے ۔
کشمیر شروع سے ہی ہندوستانی سیاست اور الیکٹرانک میڈیا کے لیے دلچسپ موضوع رہا ہے حالانکہ اس کی حساسیت سے سیاسی لیڈر بخوبی واقف ہیں لیکن سیاسی دکان چلانے کے لیے وہ اس موضوع کو بھنا تے رہتے ہیں،خود کشمیر کے گورنر ستیہ پال سنگھ نے برملاکہا کہ دہلی کے میڈیا نے کشمیر یوں کو ویلن بنادیا ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی کشمیریوں کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتا، دونوں ملکوں میں سیاسی میدان کے کھلاڑی کشمیر کے معاملے قطعی سنجیدہ نظر نہیں آتے، وہ بخوبی جانتے ہیں کہ اگر کشمیر کا مسئلہ حل ہوگیا تو پھر ان کی دکانیں کیسے چلے گی یہی وجہ ہیکہ حالیہ دنوں میں چاہے ہندوستان ہو یا پاکستان دونوں ملکوں کے درمیان میڈیا وار جاری ہے اور دونوں ملکوں کے سمجھدار لیڈر جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کررہے ہیں لیکن خمیازہ اگر کسی کو بھگتنا پڑھ رہا ہے تو وہ ہے کشمیری عوام، پلوامہ حملے کے بعد پوری قوم کو مورود الزام ٹھہرانا کہا کا انصاف ہے، دوسری ریاستوں میں حصول تعلیم کے لیے مقیم طلبا وطالبات کو ہراساں کیا جانا ، ان پر حملے کرنا اور ان کے داخلے منسوخ کرنا ان پر دہشت گردی کا لیبل لگانا کہاں تک مناسب ہے، جان کو خطرے میں پاکر کئی طلبا واپس ہوگئے ، کچھ اپنے کمروں میں قید ہوکر رہ گئے اور کچھ محفوظ علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ، طلبا وطالبات کا ایک بڑا طبقہ کشمیر واپس جاچکا ہے ، لیکن کن مسائل اور دشواریوں کا سامنا انھیں کرنا پڑا اس کا بھی جائزہ لینا ضروری ہے ، کشمیری طلبا کو راستوں میں روک کر پیٹا گیا ، دھمکیاں دی جارہی ہے ، راست سری نگر چھوڑنے کے بجائے ٹراویلس والے دوسری ریاستوں میں اتار دے رہے ہیں بات یہی ختم نہیں ہوتی کچھ ٹراویلس والوں پر تو یہ بھی الزام لگ رہے ہیں کہ انھوں نے
کشمیری طلبا کو لیجانے سےہی انکار کردیا، کشمیر واپس ہونے والے دراصل یہ وہ طلبا وطالبات ہیں جن کے والدین کھیتوں میں کام کرتے
ہیں اور محنت مزدوری کرکے اپنےجگر گوشوں کو اپنے سے دور رکھ کر ان کی تعلیم کا انتظام کرتے ہیں تاکہ کشمیر کی شورش کا ان کے
مستقبل پر کوئی اثر نہ پڑھ پائے اپنا خون پسینہ بہاکر اپنی نظروں سے دور رکھ کرجو والدین اپنے بچوں کی تعلیم کا بوجھ اٹھارہے ہیں ان
پر کیا بیت رہی ہوگی، قرض کے بوجھ تلے دبے ان لوگوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے نئی نسل کا مستقبل تاریک ہوتا نظر آرہا ہے ، پھر ان
طلبا وطالبات کے معصوم ذہنوں پر اس کے کیا اثرات مرتب ہونگے جن کےخواب چکنا چور ہورہےہیں، واضح رہے کہ کشمیری طلبا
وطالبات ذہانت کے اعتبار سے کافی ذہین اور فطین ہوتے ہیں یہی وجہ ہیکہ ہر میدان میں وہ اپنی چھاپ چھوڑتے ہیں، اگر ان صلاحیتوں
کو ابھرنے کا موقع ملے تو ملک اور قوم کے لیے یہ قیمتی سرمایہ وابت ہوسکتے ہیں لیکن ان کی خلاف ورزی اور ان کے ساتھ امتیازی
سلوک ملک کی اکثریت کا مزاج بن چکا ہے ، نیشنل کانفرنس کے لیڈر اور ساب وزیراعلی عمر عبداللہ کے اس بیان کو نظر انداز نہیں کیا
جاسکتا کہ کل کو اگر یہی نوجوان اپنے ہاتھ میں پتھر اٹھالیں تو ذمہ دار کون ہوگا، کون ان سے ان کے خواب چھین رہا ہے ، کیوں ملک کے
دیگر حصوں میں ان کا دائرہ تنگ کیاجارہا ہے ، کیا یہی اس ملک کی سبھیتہ ہے ، یہی سہن شیلتا ہے اور یہ وہی ملک ہے جس کے
دروازےہر کسی کے لیے کھلے ہوئے تھے اگر یہ وہی ملک ہے تو پھر کشمیری نوجوانوں کے ساتھ دوہرا معیار کیوں ، پچھلی تین دہائیوں
سے کشمیر سلگ رہا ہے ماضی میں تو ایسا کبھی نہیں ہوا پھر ایسا کیا ہوگیا کہ نریندر مودی کے اقتدار میں آتے ہی اکثریتی طبقے کامزاج
ہی بدل گیا کہیں کشمیر کی آڑ میں ملک کی سب سے بڑی اقلیت تو نشانے پر نہیں ہے ؟ اس بات کا اندیشہ اس لیے بھی ہیکہ گجرات کے
اس وقت کے وزیراعلی نریندر مودی نے سن دو ہزار دو کے گجرات فسادات سے پہلے چناوی ریلیوں میں ’’میاں مشرف‘‘ کا نام لیکرخوب
زہر اگلا تھا اس کے شواہد آج بھی موجود ہے اور اسی زہر افشانی کا نتیجہ فسادات کی صورت میں ظاہر ہوا تھا اب وہی شخص ملک کے
اقتدار اعلی پر قابض ہے اور چناؤ بھی قریب ہے کہی یہ اسی ذہینیت کا اثر تو نہیں لیکن اقتدار کی ہوس میں آگ سے کھیلنے کا شوق خود
کےگھر کو بھی خاکستر کرسکتا ہے
ملک کی عدالت عظمی یعنی سپریم کورٹ نے بھی کشمیریوں پر بڑھتے حملوں کا نوٹ لیا ہے اور ریاستوں کو نوٹس جاری کرکے کشمیری
شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے ، سپریم کورٹ نے معاملے کی سنگینی کو محسوس کیا ہے ،ضرورت اس بات کی
ہیکہ ملک کا اکثریتی طبقہ بھی اپنے قول وعمل سے انسانیت نوازی کا ثبوت دے ورنہ کل کو ان نوجوانوں سے پتھر اٹھالیاتو ذمہ دار
کون ہوگا۔ شاید اس وقت انھیں کو دہشت گرد قرار دیدیا جائے لیکنیاد رکھیئے یہ کسی طور ملک کے مفاد میں نہیں ہے