نئی دہلی( ایجنسیز)’آپریشن سندور‘ کے دوران کرنل صوفیہ قریشی کے خلاف مبینہ طور پر قابل اعتراض تبصرہ معاملہ میں مدھیہ پردیش کے بی جے پی وزیر کنور وجے شاہ کے خلاف تحقیقات مکمل ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود ریاستی حکومت کی جانب سے اب تک مقدمہ چلانے کی منظوری نہ دینے پر سپریم کورٹ نے سخت سوال اٹھائے ہیں۔ چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) کی قیادت والی بنچ نے سماعت کے دوران کہا کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے اگست 2025 میں ہی تحقیقات مکمل کر لی تھی اور ریاستی حکومت سے استغاثہ (مقدمہ چلانے) کی اجازت طلب کی گئی تھی، لیکن اب تک اس پر کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔ عدالت نے اسے سنگین معاملہ بتاتے ہوئے کہا کہ قانون کے تحت حکومت کی قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ بروقت فیصلے کرے۔
سماعت کے دوران سی جے آئی نے براہ راست سوال کیا کہ ’’کیا ہم یہ صحیح سمجھ رہے ہیں کہ ایس آئی ٹی نے ریاستی حکومت سے کارروائی کے لیے اجازت طلب کی ہے اور حکومت اب تک اس پر خاموش بیٹھی ہوئی ہے؟‘‘ عدالت میں موجود ایس آئی ٹی کے ایک رکن نے بتایا کہ انہیں اب ڈی آئی جی انٹیلی جنس کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔ اس پر عدالت نے ایس آئی ٹی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ میں 2 پرانے معاملوں کا بھی ذکر ہے، ان میں یکم نومبر 2020 کا اور دوسرا اس سے قبل کا ہے۔ حالانکہ ان معاملوں کو موجودہ تحقیقات میں شامل نہیں کیا گیا۔سی جے آئی نے اس پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وقت کی کمی کی وجہ سے اگر ان معاملوں کو چھوڑا گیا ہے تو ایس آئی ٹی کو امید ہے کہ وہ ان الزامات کی بھی تحقیقات مکمل کرے گی۔
عدالت نے یہ بھی ریکارڈ کیا کہ ایس آئی ٹی کی تشکیل خود سپریم کورٹ کی ہدایت پر ہوئی تھی اور مکمل رپورٹ مہر بند لفافے میں عدالت کو سونپی گئی ہے۔ رپورٹ کے پیرا 10.2 میں کچھ پرانے بیانوں کا ذکر ہے، جنہیں فی الحال باہر رکھا گیا۔ ایس آئی ٹی نے بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 217 کے تحت ریاستی حکومت کو رپورٹ بھیج کر استغاثہ کی پیشگی اجازت طلب کی تھی، جو کسی وزیر کے خلاف عدالت کے ذریعہ نوٹس لینے کے لیے ضروری ہے۔