کرناٹک میں ایس ٹی بس پر حملہ، مہاراشٹر حکومت کا سخت فیصلہمسافروں اور ملازمین کی حفاظت کے پیش نظر بس سروس غیر معینہ مدت کے لیے منسوخ
ممبئی (آفتاب شیخ)
کرناٹک کے چتردرگا میں مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (ایس ٹی) کے ڈرائیوروں پر کچھ شرپسند عناصر نے حملہ کیا، جس کے بعد مہاراشٹر حکومت نے ایک بڑا فیصلہ لیا ہے۔ وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائیک نے کولہاپور سے کرناٹک جانے والی تمام ایس ٹی بسوں کو غیر معینہ مدت کے لیے معطل کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ یہ ہدایات ایس ٹی کارپوریشن کے وائس چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر (انچارج) وویک بھیمنوار کو دی گئی ہیں۔
عیاں ہوں کہ 21 فروری کی رات 9:10 بجے، جب ممبئی آگر کی بس (MH14 KQ 7714) بنگلور سے ممبئی کی طرف رواں دواں تھی، چتردرگا کے قریب کچھ شدت پسندوں نے بس روک کر ڈرائیور بھاسکر جادھو کے ساتھ مار پیٹ کی اور بس پر سیاہی پھینکی۔ واقعے کے بعد ڈرائیور نے متعلقہ پولیس تھانے میں شکایت درج کرائی، اور آج صبح کولہاپور ڈپو کے افسران نے بس، ڈرائیور اور کنڈکٹر کو بحفاظت واپس مہاراشٹر پہنچایا۔
وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائیک نے اس واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے زخمی ڈرائیور بھاسکر جادھو سے فون پر بات کی اور انہیں یقین دلایا کہ "آپ تنہا نہیں ہیں، مہاراشٹر حکومت آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔" انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب تک کرناٹک حکومت اس معاملے پر واضح مؤقف اختیار نہیں کرتی اور مہاراشٹر حکومت سے بات چیت نہیں کرتی، تب تک کولہاپور سے کرناٹک جانے والی ایس ٹی بس سروس معطل رہے گی۔
مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن نے مسافروں سے اپیل کی ہے کہ وہ متبادل سفری انتظامات کریں اور حکومت کے فیصلے میں تعاون کریں، کیونکہ یہ اقدام عوام اور ملازمین کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
