اسمبلی میں ایسے اراکین بھی موجود ہیں جو ایک دن میں تین تین پارٹیاں بدل رہے ہیں:سدارمیا
کانگریس لیڈر سدارمیا نے کرناٹک اسمبلی میں تحریک اعتماد کے دوران بحث میں اپنی تقریر کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے اس کا ملک کے سیاسی ماحول پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہاں ایسے ایم ایل اے بھی موجود ہیں جو ایک ہی دن میں تین تین پارٹیاں بدل رہے ہیں۔ اس طرح کی حرکتوں سے ملک کا سیاسی ماحول پراگندہ ہو رہا ہے۔
19 اراکین اسمبلی غیر حاضر، فلور ٹیسٹ ہوا تو بڑھ سکتی ہیں کماراسوامی کی مشکلیں
کرناٹک میں فلور ٹیسٹ جاری ہے اور اس درمیان خبریں موصول ہو رہی ہیں کہ 19 اراکین آج اسمبلی نہیں پہنچے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اگر آج تحریک اعتماد پر ووٹنگ ہوتی ہے تو کماراسوامی حکومت کے لیے مشکلیں بڑھ سکتی ہیں۔ بی جے پی آج ہی ووٹنگ کرائے جانے کا مطالبہ پہلے ہی کر چکی ہے۔
جو اراکیین اسمبلی آج غیر حاضر ہیں ان کے نام اس طرح ہیں… بیارتھی بساوراج، منی رتنا، ایس ٹی سوماشیکر، رمیش جرکی ہولی، روشن بیگ، سری منت پاٹل، آنند سنگھ، بی ناگیندر، آر شنکر، کے گوپالیا، نارائن گوڈا، ایم ٹی بی ناگ راج، بی سی پاٹل، ایچ وشوناتھ، مہیش کمتھا ہلی، پرتاپ گوڈا پاٹل، ڈاکٹر سدھاکر، شیورام ہیبّر، این مہیش۔
کانگریس لیڈر ڈی شیوکمار اور بی جے پی اراکین اسمبلی کے درمیان تلخ کلامی
کرناٹک اسمبلی میں اس وقت تحریک اعتماد پر بحث چل رہی ہے اور اس درمیان بی جے پی و کانگریس کے اراکین اسمبلی کے درمیان تلخ کلامی شروع ہو گئی ہے۔ کانگریس کی جانب سے جب سدارمیا بول رہے تھے تو بی جے پی اراکین اسمبلی نے ان کی مخالفت کی۔ اس مخالفت کو دیکھ کر کانگریس لیڈر ڈی کے شیوکمار کھڑے ہو گئے اور بی جے پی اراکین اسمبلی کو ڈانٹنے لگے۔
اسمبلی میں تحریک اعتماد پر بحث کے دوران ہنگامہ
کرناٹک اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کماراسوامی نے تحریک اعتماد پر بحث کے دوران بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ اس کے اراکین اسمبلی بہت جلدی میں دکھائی دے رہے ہیں اور وہ ریاستی حکومت کو گرانے پر آمادہ ہیں۔ اس بحث کے دوران بی جے پی اور کانگریس کے اراکین اسمبلی کے درمیان زبردست کہا سنی شروع ہو گئی اور اسمبلی میں زبردست ہنگامہ کا ماحول بن گیا ہے۔
Bengaluru: Debate underway in #Karnataka Assembly on trust vote pic.twitter.com/TBVZHtm3ft
— ANI (@ANI) July 18, 2019
فلور ٹیسٹ پر بحث شروع، کماراسوامی رکھ رہے اپنی بات
ریاستی اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کماراسوامی اپنی بات رکھ رہے ہیں۔ انھوں نے بی جے پی سے یہ سوال کیا ہے کہ آخر وہ حکومت گرانے کے لیے اس قدر جلدبازی کیوں دکھا رہی ہے۔ کماراسوامی نے کہا کہ ’’ہم عوام کی خدمت کر رہے ہیں اور ان کے حق میں اچھا کام ہو رہا ہے۔ لیکن یہاں صرف حکومت گرانے کی کوشش ہی نہیں ہو رہی ہے بلکہ اسپیکر پر دباؤ بھی بنایا جا رہا ہے جو مناسب نہیں۔‘‘
کماراسوامی نے پیش کیا اعتماد کا ووٹ، یدی یورپا نے کی ووٹنگ کی مانگ
کرناٹک کے وزیر اعلیٰ کماراسوامی نے اعتماد کے ووٹ کی تجویز اسمبلی میں پیش کر دی ہے۔ کماراسوامی کا کہنا ہے کہ کانگریس-جے ڈی ایس حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ بی جے پی لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ یدی یورپا نے اس تعلق سے ووٹنگ کا مطالبہ کیا ہے اور ساتھ ہی کہا ہے کہ ووٹنگ آج ہی ہو۔
وزیر اعلیٰ کماراسوامی اسمبلی پہنچے، تھوڑی دیر میں شروع ہوگا فلور ٹیسٹ
فلور ٹیسٹ کے لیے وزیر اعلیٰ کماراسوامی اسمبلی پہنچ کے ہیں اور کانگریس و جے ڈی ایس کے بھی کئی اراکین اسمبلی ایوان میں موجود ہیں۔ بی جے پی کے اراکین اسمبلی بھی دو بسوں میں سوار ہو کر اسمبلی پہنچے ہیں۔ تھوڑی ہی دیر میں فلور ٹیسٹ شروع ہوگا۔ اس درمیان خبریں موصول ہو رہی ہیں کہ کانگریس کے ناراض اراکین اسمبلی ممبئی کے ہوٹل میں ہی ہیں اور وہ کرناٹک نہیں پہنچے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی بغاوت جاری ہے اور وہ کانگریس کے ساتھ کھڑے نہیں ہیں۔
Bengaluru: Karnataka Chief Minister, HD Kumaraswamy arrives at Vidhana Soudha, his government will face floor test today. pic.twitter.com/JEbVLOumKy
— ANI (@ANI) July 18, 2019
ریسارٹ سے تھوڑی دیر میں اسمبلی کے لیے روانہ ہوں گے کانگریس اراکین اسمبلی
کرناٹک اسمبلی میں آج فلور ٹیسٹ ہونا ہے۔ وقت 11 بجے طے کیا گیا ہے اور ایسے میں بنگلورو کے ریسورٹ میں ٹھہرے کانگریس کے اراکین اسمبلی تھوڑی دیر میں اسمبلی کے لیے روانہ ہوں گے۔ اس درمیان ریسورٹ سے کانگریس رکن اسمبلی وی منیپّا کے غائب ہونے کی جھوٹی خبر پھیلائی گئی تھی۔ منیپا نے ریسورٹ پہنچ کر بتایا کہ وہ کھانا کھانے کے لیے باہر گئے تھے اور یہ خبر غلط ہے کہ وہ کسی سیاسی وجہ سے گھر سے باہر نکلے۔
#BIGNEWS: Congress MLA V Muniyappa clarifies on his exit from resort, says he left the resort not for political reasons but to have food at home.#CoalitionCollapse #KarnatakaPoliticalCrisis pic.twitter.com/yS45j72vUS
— NEWS9 (@NEWS9TWEETS) July 18, 2019
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
