کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کے پیش نظر اسمبلی کے باہر پولس فورس تعینات
تحریک اعتماد پر ووٹنگ ابھی تک نہیں ہو سکی ہے جب کہ بی جے پی اراکین اسمبلی آج ہی فلور ٹیسٹ کرانے پر زور ڈال رہے ہیں۔ دوسری طرف کانگریس اور جے ڈی ایس اراکین اسمبلی نعرہ لگا رہے ہیں کہ انھیں انصاف چاہیے اور تحریک اعتماد پر بحث مکمل کی جانی چاہیے۔ اس درمیان کئی بار اسمبلی کی کارروائی میں ہنگامہ کی وجہ سے خلل پیدا ہوئی اور کسی بھی ناخوشگوار واقعہ یا شرپسندانہ عمل کے خدشہ کے پیش نظر اسمبلی کے باہر کثیر تعداد میں پولس فورس تعینات ہے۔
وزیر اعلیٰ نے فلور ٹیسٹ کے لیے مزید 2 دن طلب کیے
सीएम एचडी कुमारस्वामी ने फ्लोर टेस्ट के लिए 2 दिन का और समय मांगा है। उन्होंने कहा कि वे आज फ्लोर टेस्ट नहीं कर सकते हैं, उन्हें और समय की जरूरत है। वहीं स्पीकर ने कहा कि गंठबंधन सरकार को वादे के मुताबिक, आज फ्लोर टेस्ट कराना चाहिए।
میں نے آج فلور ٹیسٹ کا وعدہ کیا ہے… اسپیکر
اسپیکر رمیش کمار نے اسمبلی کارروائی کے دوران کہا کہ ’’میں نے آج فلور ٹیسٹ کا وعدہ کیا ہے اور اتحادی لیڈروں نے اکثریت ثابت کرنے کی بات کہی ہے۔‘‘ حالانکہ دوسری طرف سدارمیا کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے عبوری حکم کے بعد فلور ٹیسٹ پر فیصلہ ہوگا۔
#BIGNEWS: I have given my word to conduct floor test today: Speaker #RameshKumar #KarnatakaFloorTest #KarnatakaPoliticalCrisis pic.twitter.com/drVXZxRfzP
— NEWS9 (@NEWS9TWEETS) July 22, 2019
اسمبلی کی کارروائی دوبارہ شروع، تحریک اعتماد پر ووٹنگ کا امکان کم
اسمبلی کی کارروائی 3.30 بجے کے بعد ایک بار پھر شروع ہوئی اور ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ آج بھی تحریک اعتماد پر ووٹنگ نہیں ہو پائے گی۔ اسمبلی میں پارلیمانی امور کے وزیر کرشن بایر گوڑا نے تو اسپیکر سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ وہ فلور ٹیسٹ کو روک کر پہلے اراکین اسمبلی کے استعفیٰ پر فیصلہ لیں۔
Krishna Byre Gowda Requests Speaker To Postpone Floor Test & Decide On MLAs Resignation
Video Link ► https://t.co/gNCfSYpjGt#KrishnaByreGowda #FloorTest #KarnatakaAssemblySession #KannadaNews #TV9Kannada pic.twitter.com/pcaGjOkgeX
— TV9 Kannada (@tv9kannada) July 22, 2019
اسمبلی کی کارروائی 3.30 بجے تک کے لیے ملتوی
تحریک اعتماد پر ابھی تک ووٹنگ نہیں ہو پائی ہے اور اس کے لیے کوئی وقت بھی فی الحال مقرر نہیں کیا گیا ہے۔ فی الحال اسمبلی کی کارروائی 3.30 بجے تک کے لیے ملتوی ہے اور کارروائی شروع ہونے کے بعد ہی پتہ چل پائے گا کہ ووٹنگ آج ہوگی یا پھر مزید سیاسی ڈرامہ باقی ہے۔
Karnataka Floor Test Live: Session Adjourned Till 3.30pm
Video Link ►https://t.co/o44EJeZW6k#FloorTest #KarnatakaSession #SessionAdjourned #VidhanaSoudha #KarnatakaPoliticalCrisis pic.twitter.com/QojvRzlZD7
— TV9 Kannada (@tv9kannada) July 22, 2019
بی جے پی کو اعتراف کر لینا چاہیے کہ اس نے کرسی کے لیے باغی اراکین اسمبلی سے بات کی:شیو کمار
ایوان میں بولتے ہوئے کانگریس رکن اسمبلی ڈی کے شیو کمار نے کہا کہ بی جے پی یہ کیوں نہیں اعتراف کرتی کہ اسے کرسی چاہیے۔ بی جے پی کیوں نہیں اعتراف کرتی کہ آپریشن کمل کے پیچھے اس کا ہاتھ ہے۔ ڈی کے شیو کمار نے کہا کہ بی جے پی کو یہ بات اب مان لینی چاہیے کہ اس نے باغی اراکین اسمبلی سے بات کی ہے۔
DK Shivakumar,Congress in Karnataka assembly: Why is the BJP not accepting it wants the chair? Why are they not accepting the fact that they are behind 'operation lotus'? They should accept that they have spoken to these(rebel) MLAs. pic.twitter.com/HWKIAChmuK
— ANI (@ANI) July 22, 2019
کرناٹک میں تحریک اعتماد پر تعطل جاری
بنگلورو: کرناٹک میں حکمراں کانگریس اور جنتادل (سیکولر) کے 14 اراکین اسمبلی کے اسمبلی رکنیت سے استعفی کی وجہ سے پیدا ہوئے سیاسی بحران کے درمیان اسمبلی میں وزیراعلی ایچ ڈی کماراسوامی کی طرف سے تحریک اعتماد پیش کرنے کے بعد اس پر ووٹنگ پر تعطل جاری ہے۔
دراصل اسمبلی اسپیکر رمیش کمار نے ایوان کی کارروائی کو آج ہی ختم کرنے کے اشارے دیتے ہوئے کہا کہ ان کی توجہ آج کی کارروائی کے ایجنڈہ کو پورا کرنے پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ نامہ نگاروں سے کہا کہ ایوان کی کارروائی آج مکمل ہونے کی امید ہے۔
سپریم کورٹ میں کانگریس کی طرف سے عرضی داخل کر کے جمعرات کو جاری عبوری حکم پر وضاحت مانگے جانے کے سلسلہ میں پوچھے جانے پر رمیش کمار نے کہا کہ مجھے اس کی کوئی معلومات نہیں ہے۔
خیال رہے کہ کمارا سوامی کی طرف سے پیش تحریک اعتماد پر اب تک ووٹنگ نہیں ہوسکی ہے۔ اپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی اس پر بلاتاخیر ووٹنگ کی مانگ کر رہی ہے جبکہ حکمراں اتحاد کی دونوں جماعتیں تاخیر کی پالیسی اختیار کر رہی ہیں۔ حکمراں اتحاد کو لگتا ہے کہ وہ وقت بڑھاکر باغی اراکین اسمبلی کو خیمے میں لانے میں کامیاب ہوجائے گا۔
اسپیکر نے کہا، میں ممبئی میں بیٹھے ممبران اسمبلی کو آنے کے لئے نہیں کہوں گا
اسپیکر رمیش نے کہا کہ میں ممبئی میں بیٹھے ممبران اسمبلی کو آنے کے لئے پیغام نہیں دوں گا، وہپ جاری کرنا متعلقہ فریقوں کے رہنماؤں کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے،ِ اسپیکر نے کہا کہ وہپ کو 10 ویں شیڈول کے تحت تصور کیا جائے گا، یہ باغیوں کے لئے ایک پیغام ہے۔
اسپیکر نے 23 جولائی کو باغی ممبران اسمبلی کو اپنے دفتر میں ملنے کے لئے بلایا
کرناٹک اسمبلی کے اسپیکر رمیش کمار نے باغی ممبران اسمبلی کو 23 جولائی کو صبح 11 بجے اپنے دفتر میں ملنے کے لئے بلایا ہے، اتحاد کے رہنماؤں کی جانب سے باغی ممبران اسمبلی کو نااہل قرار دینے کے لئے دی گئی عرضی پر یہ نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
Karnataka Speaker KR Ramesh Kumar summons rebel MLAs to meet him at his office at 11 am on July 23. The notice has been issued over disqualification (of rebel MLAs) petition by coalition leaders. pic.twitter.com/d4fZqHJefk
— ANI (@ANI) July 22, 2019
کرناٹک فلور ٹیسٹ: باغی ممبران اسمبلی کی درخواست پر فوری سماعت سے سپریم کورٹ کا انکار
کرناٹک کے باغی ممبران اسمبلی کی درخواست پر فوری طور پر سماعت کرنے سے سپریم کورٹ نے انکار کر دیا ہے، عرضی میں اراکین اسمبلی نے مطالبہ کیا تھا کہ كماراسوامی حکومت کو شام 5 بجے عدم تحریک پر ووٹنگ کرانے کا حکم دیا جائے۔
Supreme Court refuses to give early hearing on plea by two independent Karnataka MLAs seeking a direction to conclude floor test in Assembly today. pic.twitter.com/bSWvZ9Vjyf
— ANI (@ANI) July 22, 2019
كماراسوامی حکومت کا فلور ٹیسٹ آج، ایوان میں پہنچے بی جے پی ممبر اسمبلی
کرناٹک اسمبلی میں كماراسوامی حکومت آج تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہونے کی امید ہے، ایوان کی کارروائی 11 بجے شروع ہوگی۔ اسمبلی میں بی جے پی کے رکن اسمبلی پہنچ گئے ہیں۔
Bengaluru: Former Karnataka CM & BJP leader BS Yeddyurappa along with BJP MLAs arrives at Vidhana Soudha. Congress-JD(S) coalition government to face floor test in Assembly today. pic.twitter.com/p6eIuaIsLH
— ANI (@ANI) July 22, 2019
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
