سعودی فٹ بال شائقین نے فخر کے احساس کے ساتھ پرتگیزی کپتان کرسٹیانورونالڈو کو مملکت میں کھیلنے پراپنے جوش وخروش کا اظہارکیا ہے اور کہا ہے کہ انھیں امید ہے کہ اس مشہورکھلاڑی کوالریاض لانے کے اقدام سے دوسرے کھلاڑیوں کی آمدکے بھی دروازے کھل جائیں گے۔رونالڈو نے النصر فٹ بال کلب کی جانب سے 2025 تک کھیلنے کے لیے معاہدے پر دست خط کیے ہیں۔وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ پیر کی شام سعودی دارالحکومت الریاض پہنچے تھے۔انھوں نے منگل کی شام ایک تقریب میں اپنی نئی ٹیم کے نیلےاور پیلے رنگوں کی وردی کی نقاب کشائی کی ہے۔
سکیورٹی کے شعبے میں کام کرنے والے 27 سالہ یاسر مطلک نے العربیہ کو بتایاکہ کرسٹیانورونالڈو جیسے بین الاقوامی کھلاڑی کو یہاں سعودی عرب میں دیکھنا ایک خوب صورت لمحہ ہے اور اس کے سعودی فٹ بال پر بہت مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔انھوں نے کہا کہ رونالڈو بہت پرجوش کھلاڑی ہیں اور انھوں نے یورپی لیگ میں سب کچھ حاصل کیا اور اب وہ ایک نئے تجربے کو آزمانے کے لیے سعودی عرب میں ہیں۔امید ہے کہ رونالڈو کا یہ قدم سعودی فٹ بال کے روشن مستقبل کی نشان دہی کرے گا۔
اس بات کا اظہاررونالڈو نے خود کیا تھا۔انھوں نے معاہدے پردست خط کرنے کے بعد ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’یورپ میں اپنے مقاصد کے حصول کے بعد اب ایشیا میں اپنے تجربے کو بانٹنے کادرست وقت ہے‘‘۔الریاض میں رونالڈو کا نیا آغاز بھی ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب سعودی قومی ٹیم نے قطر میں 2022 کے ورلڈ کپ کے دوران قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔اس کا ذکررونالڈو نے اپنے بیان میں کیا تھا۔
پانچ مرتبہ کے بیلن ڈی اور فاتح نے کہا کہ ہم ورلڈ کپ میں سعودی عرب کی حالیہ کارکردگی سے دیکھ سکتے ہیں کہ یہ ایک ایسا ملک ہے جہاں فٹ بال کے بڑے عزائم اور بہت زیادہ صلاحیتیں ہیں۔
یاسرمطلک کا کہنا تھا کہ ’’مجھے یہ دیکھ کر فخرمحسوس ہورہا ہے کہ سعودی عرب میں فٹ بال کا کھیل کس طرح ترقی کر رہا ہے اوررونالڈو جیسے بڑے کھلاڑی لیگ میں کھیلنے کے لیے آرہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ ان کا اقدام دوسرے کلبوں کے لیے مزید سپر اسٹارز کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا سبب بنے گا اورچیزوں کو آسان بنائے گا‘‘۔
انتظامیہ میں کام کرنے والے 29 سالہ خالدالکندی نے کہا کہ جب رونالڈو کے معاہدے پردست خط کی خبر کی تصدیق ہوئی تو وہ حیران تھے اور اپنے جوش و خروش پر قابو نہ رکھ سکے۔الکندی نے العربیہ کو بتایا کہ ’’سعودی پرو لیگ دیکھنے والے ایک مداح کی حیثیت سے ، مجھے اس طرح کے اقدام کی توقع نہیں تھی ،ایک بین الاقوامی کھلاڑی ، یہاں تک کہ تاریخ کے بہترین کھلاڑیوں میں سے ایک سعودی عرب میں کھیلنے کے لیے آئے ہیں‘‘۔
انھوں نے کہا کہ رونالڈو سعودی پرو لیگ اور خاص طور پرالنصر کلب کے لیے ایک اضافی قدر ہوں گے۔وہ سعودی پرو لیگ میں کھیلنے والے پہلے یا آخری بین الاقوامی کھلاڑی نہیں ہوں گے۔رونالڈو کے سعودی عرب میں کھیلنے سے مملکت اور خطے میں فٹ بال میں دل چسپی میں بھی اضافہ ہوگا لیکن اس سے سعودی پرولیگ کی جانب توجہ بھی بڑھے گی۔