کانگریس ، این سی پی مہاراشٹر میں این پی آر نہیں چاہتے ہیں : شرد پوار ’سی اے اے ،این آر سی ، این پی آر کے خلاف اتحاد‘ کے زیر اہتمام وفد کی پوار سے ملاقات

ممبئی : ۱۸ ؍ فروری ۔ ’سی اے اے ،این آر سی ، این پی آر کے خلاف اتحاد‘ کے زیر اہتمام آزاد میدان ممبئی میں کامیاب عوامی ریلی جسے مہا مورچہ کا نام دیا گیا تھا کے بعد منگل کو ، این سی پی جو مہا وکاس آگھاڑی کی اتحادی جماعت ہے قومی صدر شر پوار سے ملاقات کی گئی ۔

وفد نے سی اے اے ، این آر سی ، این پی آر کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے ایک میمورنڈم دیا جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مہاراشٹر میں این پی آر اور این آر سی پر عمل درآمد نہ ہونے دیں نیز اس کے خلاف مظاہرہ کررہے پرامن مظاہرین کیخلاف مجرمانہ مقدمات نوٹسز واپس لیں ۔

حافظ سید اطہر علی (این آر سی / سی اے اے / این پی آر کے خلاف اتحاد کے شریک کنوینر) نے مہاراشٹر میں این پی آر پر عمل درآمد نہ کرنے کا مطالبہ کیا اور عوام میں بے چینی اور خوف کے احساس کو بھی پیش کیا گیا جس کا احساس این آر سی ، سی اے اے ، این پی آر محاذ کی جانب سے ۱۵ فروری کو ممبئی کے تاریخی آزاد میدان میں بھی کیا گیا تھا۔

فرید شیخ کے ایک سوال پر ، شرید پوار نے کہا کہ کانگریس اور این سی پی سی اے اے کے خلاف ہیں اور انہوں نے پارلیمنٹ میں اس کے خلاف ووٹ بھی دیا ہے ۔

اتحاد کے کنوینر حسیب بھاٹکر نے کہا کہ شرد پوار نے یقین دلایا کہ کانگریس اور این سی پی دونوں مہاراشٹر میں این پی آر پر عمل درآمد نہ کرنے کے حق میں ہیں اور انہوں نے اتحاد کو بھی مہاراشٹر کے وزیر اعلی ادھاو ٹھاکرے سے تبادلہ خیال اور ملاقات کرنے کے لئے کہا ۔

او بی سی لیڈر راکیش راٹھوڑ ، نے مطالبہ کیا کہ مردم شماری کو ’ذات پات پر مبنی کرایا جانا چاہئے جو مہاراشٹر میں او بی سی کا ایک طویل عرصہ سے التوا کا شکار مطالبہ ہے اور اس سے انہیں بڑے پیمانے پر فائدہ ہوگا ۔

تیستا سیٹلواد نے اس حقیقت پر زور دیا کہ اس سے تمام طبقات متاثر ہوں گے اور ریاستی خزانہ پر بھاری مالی بوجھ پڑے گا ۔

فرید شیخ ، مولانا اطہر ، ایڈووکیٹ راکیش راٹھوڑ ، تیستا سیٹلواد ، ڈاکٹر سلیم خان ، حسیب بھاٹکر ، مولانا اعجاز کشمیری ، سچن اِنگلے وفد کا حصہ تھے ۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading