اناؤ معاملہ پر پورے ملک میں بے چینی بڑھ رہی ہے اور ہر آدمی اتر پردیش میں بڑھتی لاقانونیت کو لے کر پریشان ہے۔ اب چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گگوئی بھی اس معاملہ میں متحرک نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے پوچھا ہے کہ جب متاثرہ لڑکی نے ان کو 12 جولائی کو خط تحریر کیا تھا تو وہ خط ان تک پہنچانے میں دیر کیوں ہوئی۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار جنرل سے متاثرہ کے خاندان کے لوگوں کی تشویشات پر ایک نوٹ بھی پیش کرنے کو کہا ہے۔ واضح رہے اجتماعی عصمت دری کی متاثرہ کے اہل خانہ نے رنجن گگوئی کو خط لکھ کر کہا تھا کہ ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔
اس خط میں الزام ہے کہ ملزم کے لوگ متاثرہ کے خاندان والوں کو مستقل دھمکی دے رہے تھے اور ان دھمکیوں سے پریشان ہو کر متاثرہ بار بار پولس اور انتظامیہ کا دروازہ کھٹکھٹا رہی تھی لیکن وہاں اسے انصاف نہیں مل پا رہا تھا۔ ایک سال میں تقریباً اس کے اہل خانہ نے 33 مرتبہ شکایت کی تھی لیکن پولس نے ان شکایتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ متاثرہ کے اہل خانہ نے ان لوگوں کا ویڈیو بھی بنایا جو انہیں ڈرانے اور دھمکانے آئے تھے۔ جولائی کی ابتداء میں انہوں نے پولس کا دروازہ کھٹکھٹایا لیکن ہمیشہ کی طرح جب پولس نے کوئی قدم نہیں اٹھایا تو انہوں نے اپنے خدشات کو لے کر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھا۔ انہوں نے چیف جسٹس کے علاوہ ڈی جی پی اور کئی لوگوں کو خط بھیجا لیکن کسی کا کوئی جواب نہیں آیا، جواب سے پہلے ہی سڑک حادثہ ہو گیا۔
سڑک حادثہ کے بعد 19سالہ متاثرہ کی حالت بدستور نازک بنی ہوئی ہے، وہ ابھی وینٹی لیٹر پر ہے، اس کے وکیل کی حالت بھی نازک ہے جس کی وجہ سے وہ بھی وینٹی لیٹر پر ہے۔ واضح رہے اتر پردیش پولس نے سڑک حادثہ معاملہ میں رکن اسمبلی سینگر اور دیگر 9 لوگوں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
