
چکھلی(بلڈانہ)- (ذوالقرنین احمد) چکھلی میں آج بروز اتوار شہر کے جونا قبرستان کے قریب کھڑک کی ندی میں تیرنے گئے 4 بچوں کی ڈوبنے سے موت واقع ہوگئی۔ آج اتوار کے روز بچے شہر کے قریب کی ندی میں تیرنے کیلے گیے تھے دوپہر میں 3 ساڑھے تین بجے انکے ڈوبنے کی خبر شہر میں آگ کی طرح پھیل گئی.

بچے اسکول کی چھٹی تھی اس لیے تفریح کیلے گئے ہوئے تھے۔ تیرنے کیلے گئے بچوں نے ندی کے اوپر سے چھلانگ لگائی تھی لیکن ندی میں گال مٹی ہونے کی وجہ سے وہ گال میں پھنس گئے ایک بچے کی کنارے پر موت ہوئی جبکہ تین بچوں کو بڑی مشکل سے ندی سے نکالا گیا۔ چاروں بچے میں سید رضوان سید فیروز، شیخ ساجد شیخ شفیق ،وسیم شاہ عرفان شاہ،شیخ توسیف شیخ رفیق، ہے، یہ سبھی بچے ایک ہی گلی کے ہے ڈاکٹر ذاکر حسین اسکول کے پیچھے کے ہیں۔

بچوں کے ڈوبنے کی خبر لگتے ہیں شہر کے نوجوانوں نے ندی سے نکالنے میں مدد کی جبکہ انہیں مردہ حالت میں باہر نکالا گیا، اس میں شخص نورا شیخ رمضان، امجد خان فیاض خان، شیخ ریاض شیخ یوسف، سید علیم امان خاں، شیخ نصیر قریشی، شیخ زبیر ، انور غولی وغیرہ تھے۔ بچوں کے ڈوبنے کی خبر کچھ ہی دیر میں پورے شہر میں پھیل گئیں، ندی سے نکالتے وقت موقع پر چکھلی پولس بھی موجو تھی۔

چاروں بچوں کو ایمبولینس کے زریعے شہر کے سرکاری اسپتال منتقل کیاگیا یہ خبر ملتے ہی شہر بھر کے نوجوان اسپتال پہنچے، اس اچانک ہوئے حادثے کی وجہ سے سارے شہر میں ایک غم کا ماحول چھا گیا ہے۔ سرکاری اسپتال میں چاروں ڈیتھ باڈی کا پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ سرکاری اسپتال میں چکھلی کے تمام سیاسی و سماجی شخصیات نے آکر والدین کو پورسا دیا، اسکے علاوہ شہر کی خواتین بھی اسپتال میں بچوں کو دیکھنے کیلے پہنچیں۔ ہر کوئی غمزدہ ہے۔ والدین بچوں کے تعلق سے اس بارے میں فکر مند ہوگیے ہیں۔آج 13اکتوبرکو بعد نماز عشاء4 چاروں بچوں کی تدفین عمل میں آئے گی۔