چندی گڑھ کے قریب ایک نجی یونیورسٹی میں سنیچر کو رات گئے مبینہ طور پر لڑکیوں کی باتھ روم میں خفیہ طور پر بنائی گئی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ہنگامہ کھڑا ہو گیا ہے۔
خبر سامنے آتے ہی یونیورسٹی میں لڑکیوں نے احتجاج شروع کر دیا اور اس دوران کچھ لڑکیاں بے ہوش بھی ہو گئیں۔
دراصل یونیورسٹی کے ہاسٹل میں خبر پھیل گئی کہ ایک طالبہ نے کچھ دوسری طالبات کی قابل اعتراض ویڈیو بنا کر شملہ میں رہنے والے ایک لڑکے کو بھیج دی ہیں۔
اس واقعے کے بعد بی بی سی کے نامہ نگار گروویندر سنگھ گریوال چندی گڑھ-لدھیانہ روڈ پر واقع اس یونیورسٹی پہنچے۔یونیورسٹی میں 35 ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں اور ہفتے کے واقعے کے بعد اس وقت وہاں پر امن ہے۔ پولیس اور یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ معاملے کی مکمل چھان بین کی جائے گی۔
تاہم اس واقعے کے بعد کچھ والدین اپنے بچوں کو واپس بلا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ حالات بہتر ہونے پر انھیں واپس بھیج دیا جائے گا۔بی بی سی نے اس معاملے پر وہاں موجود کچھ طالبات سے بات کی ہے۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کچھ طالبات نے یونیورسٹی میں سنیچر کو رات گئے پیش آنے والے اس واقعے کے بارے میں بتایا۔
طالبات نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد یونیورسٹی میں انٹرنیٹ بند ہے۔ کچھ لوگوں نے یہ بھی بتایا کہ پہلے یہ ہوسٹل لڑکوں کے لیے تھا جسے کچھ عرصہ پہلے گرلز ہوسٹل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
کچھ طالبات اس واقعے کی وجہ سے خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہیں اور یونیورسٹی انتظامیہ سے سخت حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کر رہی ہیں.
خودکشی کی افواہوں پر لڑکیوں نے کیا کہا؟
ایک طالبہ نے بتایا کہ سنیچر کی رات ہاسٹل میں ہنگامہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اطلاع ملی کہ ایک لڑکی نے ویڈیو بنائی ہے جو وائرل ہو گئی ہے۔ وائرل ہونے والی ویڈیو کے حوالے سے طالبہ کا کہنا تھا کہ مجھے اس بارے میں مکمل معلومات نہیں ہیں لیکن 50-60 لڑکیوں سے کہا جا رہا ہے کہ ان کی ویڈیوز بنیں۔‘
خودکشی کی کوشش کے بارے میں ابھی تک کوئی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ تاہم کچھ طالبات کو خوف و ہراس کے بعد ڈسپنسری لے جایا گیا۔ طالبات کو ہمارے سامنے وہاں بھیجا گیا۔ یہ ڈسپنسری یونیورسٹی کے اندر ہی ہے۔ایک اور طالبہ نے بتایا کہ ’سنیچر کی شام کو معلوم ہوا کہ ہاسٹل کے ڈی بلاک میں باتھ روم میں کیمرہ لگا کر لڑکیوں کی ویڈیوز بنائی گئی ہیں، یہ بھی کہا گیا کہ 60 لڑکیوں کی ویڈیوز بنائی گئی ہیں۔‘
’میری سہیلیاں بھی اسی بلاک میں رہتی ہیں اور اس کے بعد وہ بہت خوفزدہ ہیں۔ ان کے والدین بھی پریشان ہیں۔‘انھوں نے کہا کہ ہم نے کئی بار مطالبہ کیا ہے کہ ہر کوریڈور میں کیمرے لگائے جائیں لیکن یونیورسٹی انتظامیہ نے اس پر توجہ نہیں دی۔
اب تک کیا ہوا؟
یونیورسٹی کی ایک لڑکی پر کئی لڑکیوں کی ویڈیو وائرل کرنے کا الزام تھا۔
وائرل ویڈیو میں تقریباً 60 لڑکیوں کی قابل اعتراض ویڈیوز بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
سنیچر کی رات یہ واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد اتوار کی صبح تک ہنگامہ جاری رہا۔
پولیس نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔
ملزم لڑکی ویڈیو میں اعتراف کر رہی ہے کہ وہ یہ ویڈیوز شملہ میں رہنے والے ایک لڑکے کو بھیجتی تھی۔
پنجاب کی سرکاری یونیورسٹی کا نام پنجاب یونیورسٹی ہے جبکہ چندی گڑھ یونیورسٹی جو خبروں میں ہے وہ پنجاب کے ضلع موہالی میں واقع ہے
پنجاب کی سرکاری یونیورسٹی کا نام پنجاب یونیورسٹی ہے جبکہ چندی گڑھ یونیورسٹی جو خبروں میں ہے وہ پنجاب کے ضلع موہالی میں واقع ہے
ابتدائی تحقیقات کے بعد ایس ایس پی وویکشیل سونی نے کہا کہ ’کسی بھی لڑکی کی خودکشی کی کوشش کی خبر افواہ ہے، جن لڑکیوں کو ایمبولینس میں لے جایا گیا تھا وہ دراصل احتجاج کے دوران بے ہوش ہو گئی تھیں۔‘
پولیس کا دعویٰ ہے کہ تحقیقات میں دیگر لڑکیوں کے وائرل ہونے والے ویڈیوز کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ایس ایس پی نے کہا کہ ہاسٹل کے اندر بہت زیادہ توڑ پھوڑ کی گئی اور ملزم لڑکی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔خودکشی کی افواہوں کے حوالے سے ایک طالبہ کا کہنا تھا کہ کچھ لڑکیاں خوفزدہ تھیں، جس کے بعد انھیں یونیورسٹی کی ڈسپنسری بھیج دیا گیا۔
سنیچر کے واقعے کے بعد طلبہ کو یونیورسٹی سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔ اگرچہ اب وہ اپنے کام سے باہر جا سکتی ہیں لیکن پولیس کے کہنے پر یونیورسٹی کے دروازے کھول دیے گئے ہیں۔