’چمپئن پہلوانوں سے بدتمیزی فکر انگیز‘، 1983 کی عالمی کپ فاتح ہندوستانی کرکٹ ٹیم نے جاری کیا بیان

بی جے پی رکن پارلیمنٹ اور ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (ڈبلیو ایف آئی) کے چیف برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف پہلوانوں کے مظاہرہ کو بڑی تعداد میں اب اسپورٹس سے منسلک ہستیوں کی بھی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ نیرج چوپڑا، انل کمبلے، عرفان پٹھان اور وشوناتھن آنند جیسی مشہور ہستیوں کے بعد 1983 کی عالمی کپ فاتح ہندوستانی کرکٹ ٹیم نے ایک بیان جاری کر مظاہرین پہلوانوں کے حق میں آواز بلند کی ہے۔

خبر رساں ایجنسی ’اے این آئی‘ نے اپنے ایک ٹوئٹ میں 1983 کرکٹ عالمی کپ جیتنے والی ٹیم کا وہ بیان پیش کیا ہے جو پہلوانوں کے احتجاج پر جاری کیا گیا ہے۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ہم اپنے چیمپئن پہلوانوں کے ساتھ بدتمیزی کیے جانے پر فکر مند پریشان ہیں۔ ہمیں اس بات پر بھی بے انتہا تشویش ہے کہ وہ (پہلوان) اپنی محنت سے حاصل کیے گئے تمغوں کو دریائے گنگا میں ڈالنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔‘‘

جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’ان تمغوں میں برسوں کی محنت، قربانی، عزم اور ہمت شامل ہے، اور یہ نہ صرف اُن کا اپنا بلکہ پوری قوم کا فخر ہے۔ ہم ان سے گزارش کرتے ہیں کہ اس معاملے میں کوئی جلد بازی کا فیصلہ نہ کریں، اور یہ بھی امید کرتے ہیں کہ ان کی شکایات کو جلد سنا جائے گا اور ان کا فوری ازالہ کیا جائے گا۔‘‘

خبر رساں ایجنسی ’اے این آئی‘ نے 1983 کرکٹ عالمی کپ جیتنے والی ٹیم کا اہم حصہ رہے مدن لال کا ایک انفرادی بیان بھی پہلوانوں کے مظاہرہ سے متعلق ٹوئٹ کیا ہے۔ مدن لال کا کہنا ہے کہ ’’یہ دل دہلا دینے والا معاملہ ہے کہ انھوں نے (پہلوانوں) اپنے تمغے (گنگا میں) پھینکنے کا فیصلہ کیا۔ ہم ان کے تمغے پھینکنے کے حق میں نہیں ہیں کیونکہ تمغے حاصل کرنا آسان نہیں ہے۔ ہم حکومت سے اس مسئلے کو جلد از جلد حل کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔‘‘

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading