حکومت کا سائٹس بند کرنے کافیصلہ
نئی دہلی : 3 نومبر۔(ایجنسیز) مرکزی حکومت نے انٹرنیٹ سروس پرووائڈرس سے 827 پورن ویب سائٹ بلاک کرنے کو کہا تھا۔ جس کے بعد کچھ نے انہیں بند کردیا لیکن کئی سروس پرووائڈرس نے ان ویب سائٹ کو بند نہیں کیا ہے۔ اس لئے سپریم کورٹ نے پھر سے ان سے اس کی وجہ پوچھی ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد لیا گیا ہے۔ ہائی کورٹ نے یہ آرڈر 27 ستمبر 2018 کو جاری کیا تھا۔ویسے تو امریکہ کے بعد ہندستان میں ہی دنیا کے دوسرے سب سسے زیادہ انٹرنیٹ یوزرس ہیں لیکن پورے ملک میں پورن ویب سائٹ وزٹ کرنے والوں کے اعدادوشمار صحیح سے پتہ نہیں ہے۔ حالانکہ پورن ہب ویب سائٹ نے انڈیا سے متعلق اعداد ایک سال پہلے جمع کئے تھے۔ 2017 میں جاری کئے گئے ان اعدادوشمار کی بات کریں تو ہندستان اس ویب سائٹ کو وزٹ کرنے والوں میں تیسرے نمبر پر تھا۔ جبکہ 2014 تک اس ویب سائٹ پر آنے والے پورے ٹریفک میں سے 40فیصدی ٹریفک یعنی 14200 کروڑ پیج وزٹ صرف امریکہ سے آ رہا تھا۔وہیں 2015 میں گوگل نے انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ پورن کھوجنے والے ملکوں کے جو اعدادو شمار جاری کئے تھے۔ ان میں پاکستان سب سے اوپر تھا۔ ویب aسائٹ سیلون ڈاٹ کام کی ایک رپورٹ کے مطابق ان سرچ میں جانوروں جیسے خنزیر ، گدھے ،کتے ، بلی اور سانپ کی پورن بھی تھیں۔ان اعدادو شمار سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ انٹرنیٹ پر پورن سرچ کرنے والے ملکوں میں ٹاپ 8 میں سے 6 مسلم ملک ہیں۔ ان میں سرچ کے معاملے میں دوسرے نمبر پر مصر جبکہ ایران ، مراکش ، سعودی عرب اور ترکی اس میں چوتھے ، پانچویں ، ساتویں اور آٹھویں نمبر پر ہے۔ جبکہ لبنان اور ترکی کو چھوڑ دیں تو تقریبا سارے ہی عرب ملکوں میں پورن پر پابندی ہے۔