ناندیڑ(راست)اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (SIO) ضلع ناندیڑ کی جانب سے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اقلیتی طلبہ کے لیے پری میٹرک اسکالرشپ کو منسوخ کرنے کے فیصلے کو واپس لے اور اسے دوبارا شروع کریں ساتھ ہی اسکالرشپ کی رقم بڑھانے کے لیے ایم ایل اے بالاجی کلیانکر اور ایم ایل اے موہن راو¿ ہمبارڈے کو تجویز پیش کی گئی۔ پری میٹرک اسکالرشپ اسکیم کے ذریعے پہلی سے دسویں جماعت کے اقلیتی طبقے کے طلبہ کو مرکزی حکومت سالانہ 1000 روپے کا اسکالرشپ فراہم کرتی ہے۔
اس سال نیشنل اسکالرشپ پورٹل (NSP) پر درخواست بھرنے اور تصدیق کے بعد مرکز کو بھیجنے کی ذمہ داری ڈائریکٹر ایجوکیشن (پلاننگ) کے دفتر کو دی گئی تھی۔ ابتدائی طور پر درخواست کی آخری تاریخ 31 اکتوبر تک تھی اور بعد میں اسے 5 نومبر تک بڑھا دیا گیا۔ لیکن اب اسکول کی سطح پر طلبائ کی جانب سے بھری گئی درخواستوں کی تصدیق کے بعد اچانک ان درخواستوں کو منسوخ کرنے کے لیے نیشنل اسکالرشپ پورٹل پر ایک سرکلر (مورخہ 25/11/22) جاری کیا گیا ہے۔ اس سرکلر کے مطابق پہلی سے آٹھویں جماعت کے طلبہ کو RTE کے تحت مفت تعلیم کا فائدہ دیا جاتا ہے، اس لیے پری میٹرک اسکالرشپ کے فائدہ سے انکار کر دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے مہاراشٹر میں پہلی سے آٹھویں جماعت کے اقلیتی طبقوں سے تعلق رکھنے والے طلبائ اسکالر شپ سے محروم رہیں گے۔
معلومات کے مطابق بارہا اپیلوں کے ذریعہ 10 لاکھ سے زیادہ اقلیتی پری میٹرک اسکالرشپ درخواستیں بھری گئیں۔ تاہم اب اسکولوں کی جانب سے ان درخواستوں کو درست قرار دینے کے بعد اچانک مرکزی حکومت نے ان درخواستوں کو مسترد کرنے کی ہدایات دی ہیں۔ جس کی وجہ سے گزشتہ سال اسکالر شپ حاصل کرنے والے اور اس سال اپلائی کرنے والے طلبہ اسکالرشپ سے محروم ہوگئے جس سے والدین میں تشویش کی فضا پیدا ہوگئی ہے۔ اس اسکالرشپ کے لیے مہاراشٹر میں اقلیتی طلبہ کی تعداد 2 لاکھ 85 ہزار 451 مقرر کی گئی ہے۔ اس اسکیم میں 31 اکتوبر تک 3 لاکھ 82 ہزار 514 نئے طلبائ کی درخواستیں موصول ہوئیں۔
گزشتہ سال 7 لاکھ 84 ہزار 151 طلبائ کو وظائف دیے گئے تھے۔ انہیں اس سال تجدید کے ذریعے درخواست دینے کی ضرورت تھی۔ اس سال این ایس پی پورٹل پر تجدید کے لیے 7 لاکھ 24 ہزار 495 درخواستیں داخل کی گئیں۔ 31 اکتوبر سے 5 نومبر تک توسیع کے بعد درخواستوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوا۔ لیکن ان میں سے 75 فیصد سے زیادہ درخواستیں مسترد ہو رہی ہیں۔ اس فیصلے کے بارے میں ایس آئی او نے ایک بیان کے ذریعے دونوں معزز ایم ایل اے سے درخواست کی ہے کہ وہ قانون ساز اسمبلی کے اگلے اجلاس میں اپنی آواز بلند کریں اور مرکزی حکومت کی توجہ اس مسئلہ کی طرف مبذول کرائیں، تاکہ اقلیتی طلبہ کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔