پرگیہ ٹھاکر کو جھٹکا: عدالت میں حاضر ہونا ہی پڑے گا، خصوصی این آئی اے جج

ممبئی: مالیگاؤں کے 2008 میں ہونے والے بم دھماکہ کے معاملے کی کلیدی ملزمہ اور برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کی رکن پارلیمنٹ پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو آج اس وقت شدید دھچکا لگا جب ممبئی کی خصوصی این آئی اے عدالت نے اس کی عدالت سے لگاتار غیر حاضری پر سخت اعتراض کیا اور اس کے وکیل کی جانب سے داخل کردہ عرض داشت کو خارج کرتے ہوئے حکم دیا کہ ملزمہ کو ہفتہ میں ایک دن عدالت میں حاضر ہونا پڑے گا۔

موصولہ اطلاعا ت کے مطابق آج ملزمہ کے وکلاء جے پی مشرا اور پرشانت مگو نے خصوصی عدالت میں سادھوی کی غیر حاضر کی وجہ اس کے پارلیمنٹ الیکشن کے نتائج کے بعد سے وہ آفیشیل کام کے سلسلہ میں دہلی میں مقیم ہے لہذا آج وہ عدالت حاضرنہیں ہوسکتی ہے لہذا اسے حاضر ہونے سے چھوٹ دی جائے۔

خصوصی این آئی اے جج ونود پڈالکر نے سادھوی کی عرضداشت کو خارج کرتے ہوئے اسے حکم دیا کہ وہ اسے کم از کم ہفتہ میں ایک دن عدالت میں حاضرہونا ہوگا نیز دوسرے ملزمین کو متنبہ کیاکہ ان کی بھی عدالت سے غیر حاضری برداشت نہیں کی جائے۔

اسی درمیان عدالت میں آج بم دھماکوں کے مقام کا نقشہ بنانے والے سرکاری گواہ چودھری کی گواہی عمل میں آئی جس نے بم دھماکوں کے بعد پولس کی درخواست پر بھکو چوک کا نقشہ تیار کیا تھا جہاں آج سے گیارہ سال قبل ۸۲/ روزے کی شب بم دھماکہ ہوا تھا جس میں 6 لوگ شہید اور 101 شدید زخمی ہوئے تھے۔

سرکاری گواہ سے خصوصی سرکاری وکیل اویناس رسال نے سوالات کیئے جس کے بعد اس سے دفاعی وکلاء جے پی مشراء اور سدیپ پاسبولا نے جرح کی اور اس پر پولس کے دباؤ میں عدالت میں جھوٹی گواہی اور پولس کی ہدایتوں کے مطابق نقشہ تیار کرنے کا الزام عائد کیا جس سے گواہی نے انکار کیا۔ آج عدالت میں دوران کارروائی بم دھماکہ متاثرین کی نمائندگی کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے وکلاء شاہد ندیم، ارشد شیخ، شیخ عادل و دیگر موجود تھے۔

Source بشکریہ قومی آواز بیورو—

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading