پربھنی:مراٹھا ریزرویشن کےلئے نوجوان نے جان دی

پربھنی: ضلع کے جنتور تعلقہ کے بھوشی گاؤں میں ایک نوجوان کی موت کے واقعے نے علاقے میں افسوس کی لہر دوڑا دی ہے۔ متوفی کی شناخت گنیش ٹھومبرے کے طور پر ہوئی ہے۔ اہل خانہ کے مطابق وہ مراٹھا ریزرویشن اور کنبی سرٹیفکیٹ سے متعلق جاری تنازع کے باعث شدید ذہنی دباؤ میں تھا۔

اہل خانہ کا کہنا ہے کہ گنیش نے ایک تحریری نوٹ چھوڑا ہے، جس میں اس نے مراٹھا ریزرویشن کے مسئلے پر اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے اس معاملے کا جلد از جلد مستقل حل نکالنے کی اپیل کی ہے۔

رشتہ داروں کے مطابق گنیش گزشتہ کئی دنوں سے مراٹھا ریزرویشن کے مسئلے کو لے کر پریشان تھا۔ وہ اکثر اپنے دوستوں اور اہل خانہ سے سوال کرتا تھا کہ اگر بار بار احتجاج کے باوجود مسئلہ حل نہیں ہو رہا تو اس کی وجہ کیا ہے۔ اہل خانہ نے اسے سمجھانے کی کوشش کی، لیکن وہ مسلسل ذہنی دباؤ کا شکار رہا۔

اس واقعے کے بعد علاقے میں غم و افسوس کی فضا ہے۔ اہل خانہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مراٹھا ریزرویشن کے مسئلے کا جلد اور مستقل حل نکالا جائے تاکہ اس طرح کے افسوسناک واقعات کی روک تھام ہو سکے۔

دریں اثنا، منوج جرانگے پاٹل نے مراٹھا ریزرویشن کے مطالبے کے سلسلے میں 29 اگست سے دوبارہ احتجاج شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ مراٹھا برادری کو جاری کیے گئے کنبی سرٹیفکیٹ منسوخ کیے جا رہے ہیں۔ اسی تناظر میں انہوں نے وزیر چندر شیکھر باونکولے پر سخت تنقید کی ہے اور نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ فی الحال منوج جرانگے پاٹل مراٹھا برادری کے افراد سے ملاقاتیں کر کے آئندہ احتجاج کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading