نئی دہلی۔2 فروری ۔عوام کے درمیان بہت ہی مقبول موبائل گیم ”پب جی“ پر پابندی کا مطالبہ کرتے ہوئے 11 سالہ بچے احدنظام نے ممبئی ہائی کورٹ کا رخ کیا ہے۔ اپنی ماں کی مدد سے درخواست مفاد عامہ دائر کرنے والے احد نظام نے کہا ہے کہ پب جی گیم تشدد، غصے اور سائبر بلنگ کو بڑھاوا دیتا ہے۔ان کے وکیل تنویر نظام نے کہا کہ عرضی میں اس طرح کے تشدد پر مبنی آن لائن مواد کی وقت وقت پر تفتیش کے لئے ایک آن لائن کمیٹی تشکیل دےنے کے لیے مرکز کو ہدایت دینے کی بھی مانگ کی گئی ہے۔ احد کی عرضی میں کہا گیا ہے کہ عدالت کو مہاراشٹر حکومت کو پب جی گیم پر پابندی لگانے کی ہدایت دینی چاہیے۔ نظام نے یہ بھی بتایاکہ عرضی میں مرکزی حکومت کو اس طرح کے تشدد پر مائل کرنے والے آن لائن مواد کی وقت وقت پر تفتیش کے لئے ایک آن لائن ایتھکس ریویو کمیٹی بنانے کی ہدایت دینے کی بھی مانگ کی گئی ہے۔ احد نے مرکزی وزیر روی شنکر پرساد، مہاراشٹر کے چیف منسٹر دیویندر فڈنویس اور مہاراشٹر کے وزیر تعلیم ونود تاوڑے کو مکتوب لکھ کر فوراً اس گیم پر پابندی عائد کرنے کی گزارش کی ہے۔ یہ معاملہ چیف جسٹس این ایچ پاٹل کی صدارت والی ایک عدالتی بنچ کے سامنے سماعت کے لئے آنے کا امکان ہے۔ پب جی یاپلیئراننونس بیٹل گراو¿نڈ ایک آن لائن گیم ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں گجرات حکومت نے اس گیم پر پابندی لگا دی ہے۔ ساتھ ہی ریاست کے محکمہ تعلیم نے اساتذہ کو ہدایت جاری کئے کہ جو بھی بچّے اسکول میں پب جی یا کوئی اور لت والے گیم کھیلتے ہیں، ان کو جلد سے جلد ان کے نقصان کے بارے میں بتاکر ان کی عادت کو چھڑایا جائے۔ ریاستی حکومت نے ضلع تعلیمی عہدیداروں کو گشتی نامہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پب جی پر پانبدی لگائی جائے اور پب جی کےلئے بچّوں میں بڑھ رہے جنون سے جلد سے جلد چھڑوانے کے لئے ان کی کاو¿نسلنگ اور ذہن سازی بھی کروائی جائے۔ ریاستی اطفال کمیشن سے شکایت ملنے کے بعد حکومت کی طرف سے یہ قدم اٹھایا گیا، جس میں محکمہ تعلیم نے تمام اسکولوں میں سرکلر نافذ کرنے کے لئے کہا ہے۔اس سے پہلے جموں و کشمیر اسٹوڈنٹ اسوسی ایشن نے گورنر ستیہ پال مالک سے اس گیم پر پابندی کی مانگ کی تھی۔ دسویں جماعت اور بارہویں بورڈ کے امتحان کے خراب نتیجے کی وجہ سے اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن نے گورنر سے یہ درخواست کی تھی۔ اسوسی ایشن کے صدر ابرار احمد بٹ نے پب جی کو مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرنے والا بتایا تھا، وہیں اسوسی ایشن کے نائب صدر رفیق مخدومی نے اس کو ڈرگس سے بھی زیادہ خطرناک کہا ۔ قابل ذکر ہے کہ جنوری میں جموں و کشمیر میں اس گیم کو کھیلنے سے ایک فزیکل ٹرینر نے اپنا دماغی توازن کھو دیا تھا۔ اس کے بعد سے اس گیم پر پابندی لگانے کی مانگ مطالبہ کیا گیا تھا۔