پاکستان: توشہ خانہ معاملہ میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 14 سال قید کی سزا

اسلام آباد: توشہ خانہ کیس میں راولپنڈی کی خصوصی عدالت نے پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 14-14 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ خصوصی عدالت نے جوڑے پر 78 کروڑ 70 روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے کسی بھی عہدے کیے بھی 10 سال کے لیے نااہل قرار دے دیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق مقدمے کی سماعت منگل کو جج محمد بشیر کی احتساب عدالت میں ہوئی۔ عمران خان کو ایسے وقت میں سزا سنائی گئی جب عام انتخابات میں آٹھ روز باقی رہ گئے ہیں اور ان کی جماعت کے امیدوار آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ بدھ کو سماعت کے موقع پر سابق خاتونِ اول بشریٰ بی بی عدالت میں پیش نہ ہوئیں جب کہ جج محمد بشیر کے رو برو عمران خان نے اپنی حاضری لگائی۔

عدالت نے عمران خان سے استفسار کیا کہ آپ کا دفعہ 342 کا بیان کہاں ہے جس پر سابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ میرا بیان میرے کمرے میں ہے، مجھے تو صرف حاضری کے لیے بلایا گیا تھا۔ جس پر جج محمد بشیر نے عمران خان کو کہا کہ آپ فوری طور اپنا بیان جمع کرا دیں اور عدالتی وقت خراب نہ کریں۔ عمران خان نے فاضل جج سے کہا کہ آپ کو کیا جلدی ہے، کل بھی جلدی میں سزا سنا دی گئی۔

سابق وزیرِ اعظم نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کے وکلاء ابھی آئے نہیں، وکلاء آئیں گے تو انہیں 342 کا بیان دکھا کر جمع کرا دیں گے۔ عمران خان یہ کہہ کر کمرۂ عدالت سے واپس چلے گئے کہ وہ صرف حاضری لگانے کے لیے آئے تھے۔ جس کے بعد جج بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کا فیصلہ سنا دیا۔

عدالت کی جانب سے سزا کے فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر بشری بی بی عدالت میں موجود نہیں تھیں۔ بعد ازاں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی اڈیالہ جیل پہنچ گئیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق وہ گرفتاری دینے کے لیے اڈیالہ جیل پہنچیں۔ پولیس نے اڈیالہ جیل سے ان کو گرفتار کر لیا۔ واضح رہے کہ گذشتہ روز عمران خان کو سائفر کیس میں 10 سال قید با مشقت کی سزا سنائی گئی تھی۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال 5 اگست کو اسلام آباد کی عدالت نے عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں کرپشن کا مجرم قرار دیتے ہوئے تین سال قید کی سزا سنائی تھی، فیصلہ آنے کے فوراً بعد انہیں پنجاب پولیس نے لاہور میں واقع زمان پارک میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر لیا تھا۔

بعد ازاں 29 اگست کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں گرفتاری کے بعد اٹک جیل میں قید عمران خان کی سزا معطل کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا تھا۔ تاہم خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت سابق وزیر اعظم کو جیل میں ہی قید رکھنے کا حکم دے دیا تھا.

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading