پشاور : پاکستان میں عمران خان کے ایک وزیر ہندوکمیونٹی پر قابل اعتراض تبصرہ کر اپنی پارٹی کے سینئر وزراء کے نشانے پر آگئے ہیں۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی طرف سے استعفیٰ طلب کئے جانے کے بعد وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے استعفیٰ دے دیا ہے ۔ عثمان بزدار نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کسی ایسے بیان کی اجازت نہیں دے گی جس سے رنگ، نسل، مذہب یا ذات کی بنیاد پر کسی کی دل شکنی ہو۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ایک بیان میں فیاض الحسن چوہان نے ہندو کمیونٹی سے متعلق غیر اخلاقی بیان دیا تھا ۔انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھاکہ ” اے گائے کا پیشاب پینے والے لوگوں ! سنو ، ہم لوگ مسلم ہیں اور ہمارے پاس مولا علی کی بہادری کا جھنڈا ہے ۔ اس بھرم میں نہ رہے کہ آپ ہم سے سات گنا بہتر ہیں ، ہم جو ہیں وہ آپ نہیں ہوسکتے ، آپ مورتی پوجا والے ۔
اس بیان کے بعد انہوں نے بعد میں وضاحت اور معذرت بھی کی لیکن اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے وزیراطلاعات کے بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا تھا ، جس کے بعد ان سے استعفیٰ طلب کر لیا گیا۔
بتادیں کہ پاکستان میں ہندوؤں کی کل تعداد 1.6 فیصد ہے ۔ ہندو مذہب پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا مذہب ہے ۔ حکمران پارٹی پی ٹی آئی میں بھی کئی ہندو ممبران ہیں۔
#Peshawar #Pakistani #PakMinister #FayyazulHassanChohan #Remove #Post
#CowUrineDrinking #ImranKhanGovernment #Hindu #Muslims Pakistan