ٹرمپ کا ایران کی بحری ناکہ بندی کا اعلان

واشنگٹن:(ایجنسیز)امریکی صدر کا کہنا ہے کہ اس ناکہ بندی کا مقصد ایران کے جہازوں اور اس کے گاہکوں کو آنے جانے سے روکنا ہے تاہم ’دیگر تمام ممالک آبنائے ہرمز کا منصفانہ اور آزادانہ استعمال کر سکیں گے۔‘ دوسری جانب پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ایران اب بھی آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھتا ہے اور ’غیر ملکی طاقتوں اور ان کے اتحادیوں کو ایرانی عوام کی مرضی کے سامنے جھکنے پر مجبور کرے گا۔‘

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی بندرگاہوں پر نئی ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت ’ایران کے جہازوں یا ان کے صارفین‘ کو آبنائے ہرمز سے گزرنے یا وہاں سے نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔انھوں نے مزید کہا کہ اس مقصد کے لیے امریکہ خطے میں ’حفاظت اور سکیورٹی‘ فراہم کرنے کے تمام اخراجات پورے کرنے کے لیے بھیجے جانے والے تمام مال بردار سامان پر 20 فیصد فیس عائد کرے گا۔یہ پہلی بار نہیں ہے کہ ٹرمپ نے اس اہم بحری گزرگاہ پر ناکہ بندی نافذ کی ہو۔ اپریل میں لگائی گئی ناکہ بندی تین ماہ تک جاری رہی تھی، جس دوران امریکی فوج نے کم از کم نو جہازوں پر فائرنگ کی تھی۔

امریکہ کا کہنا تھا کہ ان جہازوں نے ہدایات پر عمل کرنے سے انکار کیا تھا۔ٹرمپ کا یہ اعلان امریکہ اور ایران کے درمیان رات بھر جاری رہنے والے نئے حملوں کے بعد سامنے آیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق، آبنائے ہرمز میں ایرانی حملوں کے جواب میں کئی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں ایک آبدوز اور جہازوں کی مرمت کی تنصیب بھی شامل تھی۔نئی ناکہ بندی کے جواب میں ایرانی رکنِ پارلیمان ابراہیم رضائی نے کہا ’آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے ہمیں غیر ملکی کارکنوں کی ضرورت نہیں!‘اس تازہ کشیدگی کے باعث ایک بار پھر آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت متاثر ہوئی ہے۔ آج دو جہاز مشرق کی جانب خلیجِ عمان کی طرف جاتے ہوئے دکھائی دیے، جبکہ دو دیگر جہازوں نے آبنائے سے نکلنے کی سمت بڑھنے کے بعد اپنی پوزیشن کی معلومات نشر کرنا بند کر دیں۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے ذریعے جاری ایک اور بیان میں پاسدارانِ انقلاب کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں مداخلت کر کے ’عالمی تیل اور گیس کی فراہمی کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔‘بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران اب بھی آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھتا ہے اور ’غیر ملکی طاقتوں اور ان کے اتحادیوں کو ایرانی عوام کی مرضی کے سامنے جھکنے پر مجبور کرے گا۔‘پاسداران انقلاب نے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ: ’ہم امریکہ کو اس کی نئی جارحانہ کارروائیوں کے نتیجے میں مزید ذلت اور مایوسی سے دوچار کریں گے۔‘آج صبح امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر حملوں کے بعد تجارتی سرگرمیوں کے آغاز پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا تھا، تاہم وہ اب بھی اس سطح سے نمایاں طور پر کم ہیں جو تنازع کے عروج کے دوران ریکارڈ کی گئی تھی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading