تجلیاتِ ربیع الاول

ربیع الاول کا مہینہ اسلامی سال کا تیسرا مہینہ ہے۔ اور اس مہینے کی اہمیت روز روشن کی طرح واضح ہے،
بنی نوع انسان کو دین اسلام کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی جتنی برکات اور مہربانیاں حاصل ہوئی ہیں وہ کامل ترین انسان یعنی حضرت محمد مصطفیٰ (ص) کے مقدس وجود کی برکت کی وجہ سے ہیں کہ جو اسی مہینے میں اس دنیا میں آئے تھے ،
جمہور علماء کے نزدیک اس مہینے کی بارہ تاریخ کو اللّه تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے رحمت اللعالمین حضرت محمّد صل اللّه علیہ وسلم کو پیدا فرما کر ہم پر اپنی نعمتوں کی بارش کر دی۔
ارشاد ربّانی ہےترجمہ ۔اور ہم نے تمہیں نہ بیجھا مگر رحمت بنا کر سارےجہاں کےلیے
چنانچہ بعثت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے عرب میں ہرطرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا ،جہالت کا دور دورہ تھا ، منافقت تھی ، شراب پانی کی طرح پی جاتی تھی۔ امیر آدمی کی بیٹی کو پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کردیا جاتا تھا اور غریب آدمی کی بیٹی کو زندہ رکھا جاتا تاکہ امراء کی ہوس کو پورا کرے طاقتور کمزور پر حاوی تھا اور غلام کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا جسے دیکھ کر رونگھٹے کھڑے ہو جاتے۔ اس ظلمت کے اندھیرے کو دور کرنے کے لیے نور مجسّم صل اللّه علیہ و سلم تشریف لائےاور آپ کی آمد سے ہر طرف نور ہی نور بکھر گیا،
تقریباً سوا چودہ سو برس پہلے عرب کے ریگستانوں میں ایسی بہار آئی کہ جس سے چہار سو پھیلی ظلمت چھٹ گئی ،ہر سمت چھائی گھٹائیں مٹ گئیں، ہر ذرے پر نور برسنے لگا ،درخت سر سبز ہوئے اور زمین بھی شاداب ہوئی ،فضائیں مہکنے لگیں اور ہوائیں جھومنے لگیں ،کیوں کہ اس بہار میں شہنشاہِ اعظم، وجہ تخلیق آدم ،کائنات کے سردار ،زمینوں و آسماں کے سرتاج اور وہ ہستی تشریف لارہی تھی جس کے ثنا خواں زمین پر پتھر اور آسمان پر تارے تھے،جس کا فلک کو روزِ اول سے انتظار رہا تھا۔
زمانے کی گردش جب بھی ربیع الاول کا چاند دکھاتی ہے دلوں میں عشق رسول کی لہریں موج زن ہو جاتی ہیں اور ایمان یک دم تازہ ہو جاتا ہے۔ ربیع الاول کی آمد ہر سال تجدید عہد و فا و سنت کا پیام دیتی ہے ،اس ماہ کا حق تو یہ ہے کہ اس میں کوئی خلافِ سنت کام نہ ہو،جودین ھادی عالم صلی اللہ علیہ وسلم لائے اس کے خلاف کوئی عمل نہ ہو۔مگر افسوس ہے ہم احسان فراموش انسانوں پر، ہم نے سب کچھ بھلادیا،جہالت کے جس گھٹا ٹوپ اندھیرے سے اس کریم ذات مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نکالا تھا آج اسی گڑھے میں کودنے کو دوڑ رہے ہیں ،لیکن آہ کہ ! آج ہم رسولِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم فداہ روحی، ابی، وامّی کے نام لیوا اوراس کے عشق و محبت کے دعویدار چار چار اور چھ چھ گھنٹے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر جلوس میں گزارتے ہیں، مگر اسلام کے رکن اولیں نماز کا خیال تک نہیں آتا۔ظلم در ظلم یہ کہ ہم مسلمان حبیبِ خدا کو ناراض کر کے بھی ان کی شفاعت کے امیدوار ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روشن ہدایت اور عمدہ شریعت لے کر آئے ،وہ ایک ایسی مبارک ملت لائے جس کی راتیں پر امن اور دن پر نور ہیں ۔ہادی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں وہ راہ دکھلائی جس پر چل کر انسان دونوں جہاں میں کامیاب ہوتا ہے اور جس سے دلوں کا بگاڑ ختم ہو جاتا ہے ،انسان رحمن کو پہچان لیتا ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا و آخرت کی بھلائی کی طرف راہ نمائی کی ۔
اللہ تعالیٰ نے صاف لفظوں میں اعلان فرمادیا ہے کہ دنیا و آخرت کی کامیابی اللہ کے احکام کے پوراکرنے اور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ پر چلنے میں ہے۔ ارشاد ربانی ہے
جو لوگ اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں انہیں اس بات سے ڈرنا چاہئے کہ ان پر کوئی آفت آجائے یا ان پرکوئی دردناک عذاب نازل ہوجائے۔
ایک موقع پر فرمایا ہے:
جو شخص نیک کام کرے مرد ہو یا عورت بشرطیکہ ایمان والا ہو، تو ہم اسے ضرور اچھی زندگی بسر کرائیں گے (یہ دنیا میں ہوگا اور آخرت میں) انکے اچھے کاموں کے بدلے میں ان کو اجر دیں گے
ان آیات پر غور کریں اور دیکھیں کہ ہم اپنے اعمال واخلاق کے ذریعہ اپنے آپ کو مورد آفات اورمستحق عذاب بنارہے ہیں یا دنیا میں حیات طیبہ (راحت کی زندگی) اور آخرت میں اجر و ثواب کے لائق بن رہے ہیں۔
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا پاک ارشاد ہے:یقینا وہ شخص کامیاب ہوگیاجس نے اپنے دل کو ایمان کے لئے خالص کرلیا اور اپنے دل کو (کفر و شرک اور نفسانی رذائل) سے پاک و صاف کرلیا، اپنی زبان کو سچا رکھا اپنے نفس کو مطمئن بنالیا (کہ اس کو اللہ کی یاد سے اوراس کی مرضیات پر چلنے سے اطمنان وسکون ملتا ہو) اپنی طبیعت کو درست رکھا (کہ وہ برائی کی طرف نہ چلتی ہو) اپنے کان کو حق سننے والا بنایا اور اپنی آنکھ کو (ایمان کی نگاہ سے) دیکھنے والا بنایا۔
ربیع الاول کا تقاضہ یہی ہے کہ حبیب خدا کی محبت اور اس کی یاد میں اس ماہ کو کثرت ِ عبادات و اعمال صالحہ سے مزین کیا جائے اور جو عظیم نعمتیں اللہ نے ہم پر اتاری ہیں اس کا بہت شکر ادا کیا جائے اور کم از کم اس میں خلاف سنت کوئی فعل نہ کیا جائے ،مکروہات وبدعات سے بچا جائے ،ہر وہ کام جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچ سکتی ہو اس سے بہت دور رہا جائے، ان کی لائی ہوئی مبارک شریعت کے متضاد کسی ادنیٰ عمل سے بھی گریز کیا جائے ۔ مگر افسوس کہ ہم حد سے تجاوز کرتے ہوئے! کس طرح سے اللہ قھارو جبار کے دین پر جرات کرتے ہیں ،دین کے خلاف کسی کام کو دین کا اعلی حصہ سمجھتے ہیں ، معاصی اور بدعت کا ارتکاب کر کے عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ کرتے ہیں ،سنتِ حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف ہو کر ہم اس کو خوش کیسے کر سکتے ہیں؟ ارے ہم نام نہاد عاشقوں نے عشق کے نام کو تو بدنام کر دیا ، عشق کے ضابطوں کو پامال کردیا،
اگر ہماری محبت سچی ہوتی تو محبوب کی اطاعت کرتے ،بے شک محبت کرنے والا اپنے محبوب کا اطاعت گزار ہوتا ہے۔)
محترم مسلمان بھائیو! اس پُرفتن دور میں بدعت کے اندر پڑنا نہایت آسان اور سنت پر چلنا انتہائی مشکل ہے ، خلافِ شریعت عمل بہت سہل اور اسلام پر عمل بڑا کٹھن ہے۔ یاد رکھیے! جس مسلمان کا تعلق نبی صلی الله علیہ وسلم سے جتنا زیادہ ہو گا وہ اتناہی باطل کی آنکھوں میں کھٹکے گا۔ الله رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں بدعات ومنکرات سے بچائے اور سنت نبوی پر چلاتے ہوئے ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے۔ اے الله! ہمیں اسلام کی سربلندی کے لیے قبول فرما۔ آمین ثم آمین۔

پیر عادل مجید ندوی

کپوارہ ہتمولہ

رابطہ نمبر : 7006225028

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading