
ٹرمپ کے امریکی صدر کے طور پر حلف اٹھانے سے قبل امریکی امریکی نیٹ ورک NBC نے اطلاع دی کہ نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ تعمیر نو کے عمل کے دوران غزہ کی آبادی کے ایک حصے کو پٹی سے باہر منتقل کرنے پر غور کر رہی ہے۔ امریکی نیٹ ورک نے مزید کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے انڈونیشیا کو ان ممالک میں شامل کرنے کی تجویز دی ہے جو غزہ کی 20 لاکھ آبادی کی عارضی طور پر میزبانی کر یں گے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطی کے لیے ایلچی اسٹیو وٹ کوف اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کو برقرار رکھنے کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر جنگ زدہ غزہ کی پٹی کے دورے پر غور کر رہے ہیں۔
NBC نیٹ ورک کے مطابق وٹ کوٹ آنے والے ہفتوں اور مہینوں کے دوران خطے میں نیم مستقل موجودگی برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ ان مسائل کو تلاش کیا جا سکے جو اس کے خیال میں معاہدے کے خاتمے اور حماس کے زیر حراست یرغمالیوں کی رہائی کو کسی بھی لمحے روک سکتے ہیں۔
دریں اثنا وٹ کوف اسرائیلیوں اور 20 لاکھ بے گھر فلسطینیوں کے لیے طویل مدتی استحکام کے حصول کے لیے کام کر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا راستہ ہے جو گزشتہ ہفتے طے پانے والے معاہدے کے تین مراحل سے ہوتا ہوا گزرتا ہے۔ امریکی نیٹ ورک کے مطابق فی الحال سب سے اہم چیز جو ٹرمپ کے ایلچی کو پریشان کر رہی ہے وہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان ناگزیر روزانہ بات چیت کے نتیجے میں بے ہنگم واقعات کا رونما ہونا ہے جو غزہ اور اس کے آس پاس زمین پر وقوع پذیر ہوسکتے ہیں۔