اورنگ آباد (نامہ نگار ) ریاست میں موجود وقف املاک کا بہتر استعمال ہو، بورڈ کی آمدنی میں اضافہ کے ساتھ عوامی فلاح و بہبود کے کام ہوں اور مسلم اداروں میں بھی شفاف کارکردگی ہو، اس مقصد کے تحت مہاراشٹر اسٹیٹ وقف بورڈ نے متعدد اہم اقدامات و فیصلے کئے ہیں۔ پانچ ماہ میں تقریبا دو ہزار خاطیوں کے خلاف کاروائی کی غرض سے فوجداری نوٹسیں جاری کی جاچکی ہیں۔ اب اداروں کے کام کاج میں دھاندلیاں یا غیر اصولی کارکردگی پائی گئی تو راست ایڈمنسٹریٹیو آفیسر کا تقرر کیاجائے گا۔ نیز وقف املاک کی ترقیات و قانونی کارکردگی کو یقینی بنانے کے لئے بین الاقوامی درجہ یافتہ ایجنسی کی خدمات بھی حاصل کی جائے گی۔
اس طرح کی معلومات ریاستی وقف بورڈ کے چیف ایکزیکٹیو آفیسر ایم بی تاشیلدار نے صحافیوں کے ساتھ تبادلہ خیال کے موقع پر دی ہے۔ انھوں نے وقف بورڈ کے صدر دفتر میں منعقدہ سبھی محکموں کی جائزہ میٹنگ کے بعد چنندہ سرکردہ صحافیوں کے ساتھ غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے مزید کہا کہ حال ہی میں ممبئی میں شروع کیاگیا ہائی ٹیک آفس وقف بورڈ کا علاقائی دفتر ہے جبکہ مستقبل میں بھی صدر دفتر اورنگ آباد میں ہی رہے گا۔ ممبئی میں دفتر کی شروعات کے بعد سے روزانہ دوپہر ساڑھے چار بجے سے ساڑھے چھ بجے کے درمیان سماعت کا سلسلہ جاری ہے اور جلد ہی ریاست کے سبھی ضلعوں کو آن لائن سماعت کے لئے مربوط کردیاجائے گا۔
اس کے لئے مستحکم انٹرنیٹ خدمات حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور توقع ہے کہ ایک ماہ میں یہ کام مکمل ہوجائے گا ۔ وقف بورڈ کی آن لائن رجسٹریشن خدمات گذشتہ ایک ماہ سے بند ہونے کے متعلق پوچھنے پر تاشیلدار نے کہا کہ رجسٹریشن کی کاروائی میں او ٹی پی موصول نہ ہونے اور دیگر تکنیکی مسائل کو حل کرنے کے لئے آئی ٹی ماہرین کوشاں ہیں۔ نیا نظام یکلخت سیٹ نہیں ہوجاتا ہے۔ شروعات میں جو مسائل درپیش ہوتے ہیں انھیں رفتہ رفتہ حل کیا جاتاہے۔ وقف بورڈ کی جانب سے شفاف، قانون کے مطابق لیز یا کرایہ کی کاروائی کی توقع اداروں سے کی جارہی ہے۔ سبھی ادارے شفاف کام کاج کریں، از خود سالانہ آڈیٹ رپورٹ پیش کریں اور وقف فنڈ بھی پابندی کے ساتھ جمع کروائیں تو اس سے غریب، بیوہ، یتیم کے علاوہ تعلیمی اسکالر شپ اور طبی امداد کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا جاسکتا ہے۔
وقف بورڈ کی آمدنی میں اضافہ ہونے پر مختلف فلاحی اسکیموں اور ہونہار طلبہ کے لئے ترغیبی انعامات یا گرلز ہوسٹل کا قیام جیسے امور کی انجام دہی ممکن ہے ۔ اس کے لئے بڑے پیمانہ پر عوامی بیداری یا تربیتی کیمپوں کا انعقاد ضروری ہے اور خاص طور پر متولیوں، مساجد و درگاہوں کے ٹرسٹیان کمیٹی اراکین اور ذمہ داران ملت کو اس جانب سنجیدگی سے غور و خوض کرنا چاہئے۔ سی ای او نے بتایا کہ عہد ہ کا چارج لینے کے بعد اسی مقصد کے تحت تقریبا تیرہ ہزار اداروں کو انھوں نے نوٹس جاری کی تھی۔ جس کے جواب میں جو احوال رپورٹیں موصول ہوئی ہیں ان میںسے آٹھ سو اداروں کی رپورٹ کو منظوری دی جاچکی ہے۔ مسلم اداروں کی درجہ بندی کرتے ہوئے اے گریڈ میں آنے والے ہر ضلع کے پانچ تا دس اس طرح سے جملہ ۰۷ اداروں کو سروے کے لئے منتخب کرنے کے بعد انھیں خصوصی نوٹس روانہ کی جاچکی ہے۔
جس کے ذریعے ان اداروں سے چار ہفتوں کے اندر جواب طلب کیاگیا ہے۔ اگر مذکورہ ادارے یا متولیان کی جانب سے اس ضمن میں تساہلی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے تو ان کے خلاف نہ صرف قانونی کاروائی کی جائے گی بلکہ راست ایڈمنسٹریٹیو آفیسر ( ایڈمنسٹریٹر ) کا تقرر بھی کیا جائے گا۔ جبکہ اس طرح کی کاروائی شولاپور کے چراغ علی قبرستان اور پربھنی کی قربان شاہ درگاہ کے معاملہ میں مہاراشٹر اسٹیٹ وقف بورڈ کی جانب سے کی جاچکی ہے اور وہاں پر ایڈمنسٹریٹر کا تقرر کیا جاچکا ہے۔ اس طرح کے متعدد انقلابی اقدامات کی وجہ سے فی الحال مہاراشٹر بھر میں وقف اراضیات و املاک کے قابضین اور خاطیوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔
اپنے دفاع کے لئے وہ عدالت حکومت اور متعلقہ محکموں کے مسلسل چکر کاٹ رہے ہیں۔ جو کل تک یہ کتہے تھے کہ کچھ نہیں ہوتا ہے، ایک بار جو جس کا ہوگیا وہی برقرار رہتا ہے۔ ایسے لوگ اب قانونی گرفت کے خوف سے بھاگتے پھر رہے ہیں۔ وقف بورڈ کے اراکین ، وزراء، ارباب اقتدار اور حق پرست عوام میں اگر تال میل برقرار رہے گا تو مستقبل قریب میں گذشتہ چند ماہ کے اقدامات، فیصلوں اور کاروائیوں کے بہتر نتائج برآمد ہونا یقینی ہے۔