جتیندر تیاگی بنے کے بعد وسیم رضوی خود کو ڈپریشن میں بتا رہا ہے، ڈپریشن اتنا زیادہ ہے کی وہ خود خوشی کرنے کی بات کہ رہا ہے. یہ سب چیز خود وسیم رضوی عرف جتیندر تیاگی نے ایک ویڈیو میں کہی۔ انکا کہنا ہے کی انھے سناتن دھرم میں وہ پیار اور محبت نہیں ملی ہے جیسے کسی پرانے رشتے دار کو گھر واپسی پر ملتی ہے
وسیم رضوی عرف جتیندر تیاگی اس وقت ڈپریشن میں ہیں۔ اس کی جانکاری انہوں نے خود ایک ویڈیو کے ذریعے دی ہے۔ اس ویڈیو میں وہ خودکشی کے بارے میں بھی بات کرتے نظر آ رہے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے وہ وسیم رضوی سے جتیندر تیاگی بن گئے، لیکن اب وہ کہتے ہیں کہ سناتن دھرم میں انہیں وہ پیار اور پیار نہیں ملا جیسا کہ ایک پرانے رشتہ دار کو گھر واپسی پر ملتا ہے۔ تاہم، ویڈیو میں، وہ سناتن دھرم کو اپنانے کے اپنے فیصلے کی وکالت کرتے ہوئے بھی نظر آ رہے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ سناتن دھرم میں ہیں اور مرتے دم تک سناتن دھرم میں رہیں گے۔
ये चले थे इस्लाम और कुरान को बदलने, अल्लाह ने पूरी दुनिया में ऐसा ज़लील किया के मुंह दिखाने के काबिल नही,बेल खतम होते ही इसे हिंदू याद आ गए,नफरत में जिसने धर्मपरिवर्तन किया भला उसे बदले में प्यार कैसे मिल सकता है, #Islamophobia #WaseemRizvi pic.twitter.com/lVgNdl4qZp
— Sibghatullah Ashraf (@SibAshraf) September 2, 2022
جتیندر نارائن تیاگی کا خود سپردگی سے قبل بیان ’سناتن دھرم اپنانے کے بعد لڑائی میں تنہا ہو گیا ہوں!‘
دھرم سنسد میں نفرت انگیز تقریر کرنے کے بعد سرخیوں میں آنے والے جتیندر نارائن تیاگی عرف وسیم رضوی ایک بار پھر جیل پہنچ گئے ہیں، ان کی عبوری ضمانت ختم ہو چکی ہے، اس لیے عدالت میں خودسپردگی ضروری تھی
جتیندر نارائن تیاگی عرف وسیم رضوی نے اشتعال انگیز تقریر کے معاملہ میں عبوری ضمانت کی مدت ختم ہونے کے بعد گزشتہ روز عدالت کے سامنے خود سپردگی کر دی۔ دریں اثنا، تیاگی نے اپنے دل کا درد بیان کرتے ہوئے کہا کہ سناتن دھرم (ہندو مت) کو اپنانے کے بعد وہ لڑائی میں اکیلے ہو گئے ہیں لیکن انہیں گھر واپسی کا کوئی ملال نہیں ہے۔
ہریدوار میں منعقدہ دھرم سنسد کے دوران نفرت انگیز تقریر کرنے کے معاملہ میں جتیندر نارائن تیاگی عرف وسیم رضوی کی عبوری ضمانت کی مدت ختم ہو گئی ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے تحت انہوں نے جمعہ کے روز جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں خودسپردگی کر دی، جہاں سے انہیں جیل بھیج دیا گیا ہے۔
تبدیلی مذہب پر بات کرتے ہوئے جتیندر نارائن تیاگی نے کہا ’’جب سے میں نے سناتن دھرم اپنایا ہے، تب سے میں اس لڑائی میں تنہا ہوگیا ہوں لیکن مجھے اس کا افسوس نہیں ہے۔ میں نے بہت سوچ بچار کے بعد یہ مذہب اختیار کیا ہے۔ گھر واپسی کر کے مجھے کوئی ملال، کوئی افسوس نہیں ہے۔ میں دیگر مسلمانوں سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ گھر واپسی کریں۔‘‘
جتیندر نارائن سنگھ تیاگی نے الزام عائد کیا کہ اس سے قبل بھی جوالاپور کے لوگوں نے جیل کے اندر مجھے مارنے کی سازش رچی تھی لیکن جیل انتظامیہ کی سختی کی وجہ سے وہ اس سازش کو عملی جامہ نہیں پہنا سکے۔
دوسری طرف اکھاڑہ پریشد کے صدر مہنت رویندر پوری نے کہا ’’جتیندر نارائن تیاگی ایک بار پھر جیل جانے والے ہیں تو ہم سب کو دکھ ہوتا ہے۔ آخر ہندو مذہب میں آنے کے بعد وسیم رضوی جو اب جتیندر نارائن تیاگی بن گئے ہیں انہیں کیا ملا؟ جو ہم سب کو جیتندر نارائن تیاگی کو دینا چاہیے تھا وہ ہم سب نے نہیں دیا!‘‘
ہریدوار کی شامبھاوی دھام کالی سینا کے سربراہ سوامی آنند سوروپ نے کہا ’’ہم جتیندر نارائن تیاگی کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔ اس لڑائی میں جہاں بھی ہم سب کی ضرورت ہوگی، ہم ان کے ساتھ کھڑے نظر آئیں گے۔‘‘