اقتصادی بحران اور بینکوں کے زم ہونے کی خبروں کے بیچ ایک ایسی خبر آئی جس نے سیاسی گلیاروں میں شور مچا دیا ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے پرنسپل سیکریٹری نرپیندر مشرا نے اپنی ذمہ داری چھوڑنے کا فیصلہ کیا جس کے بعد وزیر اعظم نے کابینہ کے سیکریٹری سے کل ہی ریٹائر ہوئے پی کے سنہا کو وزیر اعظم کا او ایس ڈی بنا دیا اور وزیر اعظم دفتر میں پانچ اور افسران کی تقرری کی گئی ۔اس خبر کے بعد ایسا محسوس ہوا کہ نپیندر مشرا کے جانے کے بعد وزیر اعظم دفتر میں تقرریوں کی جھڑی لگ گئی۔
Govt of India, Dept of Personnel & Training: The Competent Authority has approved the appointment of Saurabh Shukla (IA and AS) as Director in Prime Minister's Office for a period till 19.10.2022 (overall period of 7 yrs deputation) or until further orders whichever is earlier.
— ANI (@ANI) August 30, 2019
Government of India, Department of Personnel and Training: The Competent Authority has approved the appointment of Pratik Mathur (IFS) as Deputy Secretary in the Prime Minister's Office for a period of three years or until further orders, whichever is earlier.
— ANI (@ANI) August 30, 2019
Govt of India, Dept of Personnel and Training: The Competent Authority has approved the appointment of Abhishek Shukla (IFS) as Deputy Secretary in the Prime Minister's Office for a period of three years or until further orders, whichever is earlier.
— ANI (@ANI) August 30, 2019
Dept of Personnel&Training: Appointments Committee approves appointment of Arvind Shrivastava(IAS)-Joint Secy, Dept of Economic Affairs as Joint Secy, PMO on lateral shift basis for balance period of his central deputation tenure(9.5.2023)or until further orders,whichever earlier
— ANI (@ANI) August 30, 2019
نرپیندر مشرا جن کو وزیر اعظم کا خاص اور قریبی سمجھا جاتا ہے ان کے وزیر اعظم دفتر چھوڑنے کی اطلاع بھی وزیر اعظم کے ٹویٹ کے ذریعہ ہی زیادہ ملی ۔وزیر اعظم نے ٹویٹ کر کے بتایا کہ نپیندر مشرا نے خود اپنی ذمہ داری چھوڑنے کی خواہش کی ہے ۔ ٹویٹ میں کہا گیا ہے ’’انہوں نے خود یہ ذمہ داری چھوڑنے کی خواہش ظاہر کی ہے اور ان کی یہ درخواست اب قبول کر لی ہے ۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ستمبر کے دوسرے ہفتہ سے اپنی ذمہ داریوں سے آزاد ہو جائیں گے۔ ان کے مستقبل کے لئے نیک خواہشات‘‘۔
2014 में जब मैंने प्रधानमंत्री के रूप में दायित्व संभाला, तब मेरे लिए दिल्ली भी नई थी और नृपेंद्र मिश्रा जी भी नए थे। लेकिन दिल्ली की शासन-व्यवस्था से वे भली-भांति परिचित थे। उस परिस्थिति में उन्होंने प्रिंसिपल सेक्रेटरी के रूप में अपनी बहुमूल्य सेवाएं दीं।
— Narendra Modi (@narendramodi) August 30, 2019
उस समय उन्होंने न सिर्फ व्यक्तिगत रूप से मेरी मदद की, बल्कि 5 साल देश को आगे ले जाने में, जनता का विश्वास जीतने में महत्वपूर्ण भूमिका निभाई। एक साथी के रूप में 5 साल तक हमेशा उन्होंने साथ दिया।
— Narendra Modi (@narendramodi) August 30, 2019
وزیر اعظم نے ایک اور ٹویٹ کر کے ان کے کام کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ’’سال 2014 میں جب میں نے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا تھا تب میرے لئے دہلی بھی نئی تھی اور نرپیندر مشرا بھی نئے تھے لیکن دہلی کے ایڈمنسٹریشن سے وہ بخوبی واقف تھے ۔ان حالات میں انہوں نے پرنسپل سیکریٹری کے طور پر اپنی بیش قیمتی خدمات دیں‘‘۔ وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے(نرپیندر مشرا) نہ صرف ذاتی طور پر میری مدد کی بلکہ پانچ سال تک ملک کو آگے لے جانے ، عوام کا اعتماد جیتنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ ایک ساتھی کے طور پر انہوں نے پانچ سال تکا ہمیشہ ساتھ دیا ۔
2019 के चुनाव नतीजे आने के बाद श्री नृपेंद्र मिश्रा जी ने खुद को प्रिंसिपल सेक्रेटरी के पद से सेवामुक्त किए जाने का अनुरोध किया था। तब मैंने उनसे वैकल्पिक व्यवस्था होने तक पद पर बने रहने का आग्रह किया था।
— Narendra Modi (@narendramodi) August 30, 2019
وزیر اعظم نے ٹویٹ کر کے بتایا کہ ’’سال 2019 کے انتخابی نتائج کے بعد نرپیندر مشرا جی نے خود کو پرنسپل سیکریٹری کے عہدے سے الگ ہونے کے لئے کہا تھا تب میں نے متبادل انتظام ہونے تک ان سے عہدے پر بنےرہنے کے لئے کہا تھا‘‘۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر نپیندر مشرا کا ایک خط وائرل ہو رہا ہے جس میں نرپیندر مشرا نے لکھا ہے کہ وزیر اعظم مودی کے ساتھ کام کرنا انہیں اچھا لگا ار وزیر اعظم نے جو انہیں مواقع دئے اس کے لئے وہ ان کے احسان مند ہیں اور اب آگے بڑھنے کا وقت آ گیا ہے ۔
Nripendra Misra,Principal Secretary to Prime Minister:Been a privilege to serve country under PM Modi ji. Deeply grateful to him for this opportunity&complete confidence he placed in me. Time now for me to move on,even as I remain devoted to public causes&national interest
— ANI (@ANI) August 30, 2019
نرپیندر مشرا کا اس وقت اپنا عہدہ چھوڑنا ایک تشویش کی بات ہے جب ملک اقتصادی بحران سے گزر رہا ہو، کشمیر پر ایک بڑا فیصلہ لیا گیا ہو ، ارون جیٹلی و سشما سواراج جیسے لوگ مشورہ دینے کے لئے دنیا میں نہ ہوں، اور ملک کی سب سے اہم وزارت یعنی وزارت داخلہ کی ذمہ داری امت شاہ کے پاس ہو جن کے پاس مرکز میں وزارت سنبھالنے کا تجربہ نہیں ہے۔ حساس موقع پر نرپیندر مشرا کا چھوڑنا وزیر اعظم کے دفتر میں بڑی تبدیلی کی جانب اشارہ کر رہا ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
