وزیراعظم مودی کا مسجد کا دورہ

قاہرہ: وزیراعظم نریندرمودی نے اتوار کے دن مصر کی تاریخی 11 ویں صدی کی مسجدالحاکم (قاہرہ) کا دورہ کیا جسے ہندوستان کی داؤدی بوہرہ برادری کی مدد سے بحال کیاگیا ہے۔ دورہ مصر کے دوسرے دن مودی کو مسجد کا مشاہدہ کرایاگیا جس کی تازہ تزئین نو تقریباً3ماہ قبل مکمل ہوئی تھی۔

وزیراعظم نے دیواروں اور دروازوں کے ڈیزائن کی ستائش کی۔ زائداز ایک ہزار سال قبل مسجدالحاکم قاہرہ کی چوتھی قدیم ترین مسجد ہے۔ قاہرہ میں وہ دوسری فاطمی مسجد ہے۔ مسجد کا رقبہ 13650 مربع میٹر ہے۔ اندرونی حصہ کا رقبہ 5000 مربع میٹر ہے۔ہندوستان میں آباد بوہرے اصل میں فاطمی ہیں۔

ہندوستانی تارکین وطن کے بوہرہ کمیونٹی کے ایک رکن شجاع الدین شبیر تمبا والا، جو الحکیم مسجد میں موجود تھے جب وزیر اعظم مودی نے آج وہاں کا دورہ کیا، کہتے ہیں، "یہ ہمارے لیے ایک تاریخی دن ہے کیونکہ آج وزیر اعظم مودی یہاں آئے اور ان کے ساتھ بات چیت کی۔ انہوں نے ہماری بوہرہ برادری کی خیریت بھی دریافت کی اور جب وہ ہم سے بات چیت کرتے تھے تو ہم ایک خاندان کی طرح محسوس کرتے تھے۔اس کے بعد وہ یادگار پر پہنچے۔ وزیر اعظم نے یہاں پہلی جنگ عظیم میں شہید ہونے والے ہندوستانی فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کیا

یہ لوگ 1970ء سے مسجد کی تزئین نوکرتے رہے ہیں اور مسجد کی دیکھ ریکھ بھی ان ہی کے ذمہ رہی ہے۔ ہندوستانی سفیرمتعینہ مصر اجیت گیتے نے قبل ازیں کہاکہ وزیراعظم کو بوہرہ برادری سے بڑا لگاؤ ہے جو کئی سال سے گجرات میں آباد ہیں۔

تاریخی مسجد16 ویں فاطمی خلیفہ الحاکم باامراللہ کے نام پر بنی ہے اور یہ داؤدی بوہروں کیلئے اہم مذہبی وثقافتی مقام ہے۔ داؤدی بوہرے فاطمی اسمعیلی طیبی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی شروعات مصر سے ہوئی تھی اور بعد میں یہ یمن منتقل ہوگئے تھے۔ 11 ویں صدی میں یہ ہندوستان آئے تھے۔ نریندرمودی کو وزیراعظم بننے سے پہلے سے داؤدی بوہروں سے خاصہ لگاؤ ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading