
بھیونڈی (شارف انصاری):- گزشتہ 3 سال سے پاور لوم صنعت میں چھائی شدید کساد بازاری سے پریشان اور بھیونڈی میں بجلی کی فراہمی کرنے والی ٹھیکیدار ٹورنٹ پاور کمپنی کی من مانی کام کاج کے خلاف جنگی پیمانے پر اعلان کرتے ہوئے پاور لوم مالکان کی تشکیل کردہ پاور لوم بچاو سمیتی بھیونڈی نے پاور لوم مالکان کو متحد کر ایک بڑے پیمانے پر منعقدہ جلسہ عام میں اعلان کیا کہ 16 نومبر سے لے کر 30 نومبر تک 15 دن کے لئے تمام پاور لوم مالک اپنے کارخانے بند رکھیں گےساتھ ہی مذکورہ پلیٹ فارم سے اعلان کیا گیا کے اس بند کے دوران 19 نومبر کو پرانت آفس بھیونڈی کے سامنے ایک بڑا مورچہ اور دھرنا دیا جائے گا۔ اس کے بعد سمیتی کی طئے تاریخوں کے مطابق راستہ روکو آندولن اور جیل بھرو تحریک پر امن طریقے سے کیا ائے گا ۔
اقتصادی بحران کی وجہ سے پاور لوم صنعت و کپڑا کاروبار میں ہو رہے مسلسل خسارے سے پریشان پاور لوم مالکان نے حکومت کو جگانے اور بھیونڈی کو بجلی سپلائی کرنے والی ٹھیکیدار ٹورنٹ پاور کمپنی کو بھگانے کے لئے قائم کی گئی پاور لوم بچاو سمیتی بھیونڈی کی جانب سے بھیونڈی ناسک – روڈ پر واقع ماما بھانجہ کے پیچھے میدان میں پاور لوم مالکان کا ایک بڑا اجلاس منعقد کیا گیا جس میں ہزاروں پاور لوم مالکان جمع ہوئے۔ یہ اجلاس سابق رکن پارلیمنٹ سریش ٹاورے کی زیر صدارت منعقد کی گئی ۔ اس اجلاس میں بھیونڈی کے تمام پاور لوم ایسوسی ایشن کے عہدیداران کے ساتھ اس اجکاس کے كنوينر نورالعین شیخ، عبدالمنان صدیقی، اشتياق احمد کے ساتھ ساتھ اہم مقررین میں عارف علوی، ممتاز احمد، اشتياق احمد، کے ایم سہیل خان، نور محمد مقادم، سراج طاہر ، فیض عالم، رضوان احمد مسٹر، شرد پاٹل، تروپتی سرپرم، راجندر پرساد، وسیم احمد سمیت دیگر مقررین نے اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے سب سے زیادہ بھیونڈی میں بجلی کی فراہمی کرنے والے ٹھیکیدار کمپنی ٹورنٹ پاور پر حملہ بولا۔ مقررین نے ٹورنٹ پاور کمپنی اور مرکزی و ریاستی حکومت کی غلط پالیسیوں کو اس بھیانک مندی کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا ۔مقررین نے مطالبہ کیا کہ حکومت کی مرضی اور ٹورنٹ پاور کی من مرضی سے بھیونڈی میں بجلی بل میں جو اضافہ کیا گیا ہے اسے جلد واپس لیا جائے ۔ ٹورنٹ پاور کمپنی کی جانب سے پاور لوم کارخانوں میں لگایا جا رہا پاور فیکٹر سیدھی طرح سے پاور لوم مالکان کے اوپر ظلم اور ناانصافی ہے۔ جسے حکومت فوری طور پر بند کرے۔ سمیتی کے ذمہ داران نے اپنی تقریر میں بتایا کہ آج کے وقت پاورلوم۔صنعت میں چھائی بھاری اقتصادی کساد بازاری کی وجہ سے پاورلوم اسکریپ کے بھاو میں فروخت ہو رہے ہے ۔بھیونڈی کے سات لاکھ پاور لوم مشينوں میں سے 60 فیصد مشینیں بند پڑی ہوئی ہیں ۔ کارخانوں میں تالا لگ گئے ہیں ۔بے روزگار ہونے کے سبب پاورلوم کاریگر لاکھوں کی تعداد میں اپنے گاؤں واپس چلے گئے ہیں ۔ ایسی حالت میں لوگوں کوکارخانہ چلانے کے لئے بھی مشکلات آگئی ہے ۔لوگ اپنے گھروں کے زیور بیچ کر پاور لوم بل بھر رہے ہیں ۔اس طرح کے بدتر حالات میں مجبورا کارخانے بند کئے جارہے ہے۔
پاور لوم مالکان کے موجودگی میں آرگنائزر کے ذمہ داران نے تجویز پیش کرتے ہوئے یہ اعلان کیا ہے کہ سمیتی کے فیصلے کے مطابق سبھی پاور لوم مالکان 16 نومبر سے 30 نومبر تک 15 دن کے لئے پاور لوم کارخانے بند رکھیں گے ۔اسی کے ساتھ دوسری تجویز میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اضافی بجلی بل اور پاور فیکٹر لگائے گئے راج کو فوری طور پر واپس لیا جائے جن پاور لوم مالکان کے خلاف ٹورنٹ پاور کمپنی نے فرضی کیس کیا ہے ۔ان کے کیس فوری طور پر واپس لئے جائیں ۔تجویز پیش کئے جانے کے بعد موجودہ ہزاروں کی تعداد میں موجود سبھی پاور لوم مالکان نے متفقہ ہوکر ہاتھ اٹھاكر اور اپنی کرسیاں پر کھڑےہوکر تحریک میں خود کو پیش کرنے کی حمایت کی اور انہوں نے یہ اعلان کیا کے اپنے مطالبات کے لئے حکومت اور ٹورنٹ پاور کمپنی سے لڑنے کے لئے کرو یا مرو تک کی صورت میں جو بھی تحریک ہوگی اس میں شامل ہوں گے ۔ اسی درمیان اجلاس میں موجود جلال انجینئر نے بتایا کہ اگلے ہفتے بھیونڈی سے بی جے پی کے ایم پی کپل پاٹل کی قیادت میں پاور لوم صنعت میں چھائی شدید مندی اور بجلی لوم مالکان پر ٹورنٹ کمپنی کی طرف سے کئے جا رہے زور زبردستی اور ناانصافی کے تناظر میں وزیر اعلی کے ساتھ ملاقات طے کی گئی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کتنی قوت کے ساتھ پاور لوم مالکان اپنے فیصلے پر عمل کرتے ہیں۔ تادم تحریر شہر میں بہت سے پاورلوم مالکان نے اپنے کارخانے بند کر دیئے ہے ۔جبکہ بہت سے کارخانے پہلے سے ہی بند پڑیں ہے ۔ لیکن وہیں کئی پاور لوم مالکان آج بھی اپنے کارخانوں کو پہلے کی طرح چلا رہے ہے۔ جیسا کے اجلاس میں یہ اعلان کیا گیا کہ سبھی پاور لوم مالک اپنی مرضی سے اپنے کارخانے بند کریں گے۔ اس کے لئے پاور لوم بچاو سمیتی کسی بھی طرح کی زور زبردستی نہیں کریں گی ۔ بھیونڈی پولیس انتظامیہ نے اس اعلان سے راحت کی سانس لی ہے ۔