بقلم: ایم۔ایم۔سلیم۔آکولہ
نائن الیون کا سانحہ سب لوگوں کے ذہن میں تازہ ہی ہے کہ جب امریکہ کے شہر نیویارک میں دن کے وقت اتنی بڑی اور فلک بوس عمارت جس میں سو سے زائد منزلیں تھیں اسے کیسے دو جہاز مل کر چند ساعتوں میں تباہ و برباد اور زمین بوس کردیتے ہیں۔ نائن الیون کے پیچھے جو بھی کہانی ہو ہمیں اس بحث میں نہیں پڑنا ہے۔ کیونکہ کہ دنیا خود حیران ہے کہ اتنی مضبوط عمارت کیسے چند ساعتوں میں ملبہ کا ڈھیر بن سکتی ہے؟لیکن اس کا مقصد صاف تھا کہ دنیا کو یہ باور کروایا جائے کہ مسلمان دہشتگرد ہیں اور مذہب اسلام دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے۔
بات دراصل اس تصویر کی کرنی ہے جو نائن الیون کے بعد پوری دنیا کے سامنے آتی ہے کہ اک شخص داڑھی اور ٹوپی زیب تن کیے ہوئے ہے جس کی ایک انگلی جسے انگشتِ شہادت کہتے ہیں، اٹھی ہوئی ہے. اس انگشت کو مسلمان دوران نماز قعدہ میں اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدً اعَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔پر اٹھاتے ہیں، بس اسی بات کا سہارا لے کر اور پھر اس تصویر کو دنیا کو بتلا کر مسلمانوں کو عالمی دہشت گرد بتانے کی شروعات ہوتی ہے، اور پھر وہ تصویر دہشت گردی کی علامت بن جاتی ہے۔ دنیا کے کسی بھی خطے میں جب بھی وہ تصویر سامنے آتی ہے اسے دہشت گردی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
اسی سانحے کو لے کر امریکا نے طالبان کو ختم کرنے کے نام پر افغانستان کو کھنڈر میں تبدیل کردیا۔امریکہ اور اس کے اتحادی جو نام نہاد مسیحا بننے کا ڈھونگ رچاتے ہیں، حقیقت میں وہ خود عالمی دہشت گرد ہیں جو پوری دنیا میں دہشت پھیلا رہے ہیں۔ ہتھیار بیچ کر یہ لوگ امن کی بات کرتے ہیں۔
اب بات دوسری تصویر کی کرتے ہیں. پچھلے دنوں اسی طرز کی ایک اور تصویر دنیا کے منظرنامے پر نمودار ہوئی۔ لیکن اس مرتبہ منظرنامہ کچھ الگ ہی تھا۔ نیوزی لینڈ کے کرائسٹ چرچ میں ایک حملہ آور دہشتگرد نماز جمعہ کے دوران دو مسجدوں میں اندھا دھند فائرنگ کرتاہے جس کے نتیجے میں 50 افراد شہید ہوجاتے ہیں۔ جو جس حالت میں تھا اپنے رب کے حضور جا کر پیش ہوا. کوئی تلاوت کر رہا تھا، کوئی نماز پڑھ رہا تھا، کوئی ذکر میں مشغول تھا، ان سب کے بیچ ایک ایسی تصویر دنیا کے سامنے آتی ہے جس میں اسٹریچر پر ایک زخمی نمازی کو لے جایا جا رہا ہے جس کی موت کا وقت قریب ہے. لیکن اس کے چہرے پر نہ کوئی گھبراھٹ ہے نہ کوئی خوف ہے. بس اپنے رب سے ملنے کی تمنا ہے. شہادت کی انگلی اٹھی ہوئی ہے. گویا اپنے رب سے ہمہ تن گوش ہے اور کہہ رہی ہے اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدً اعَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔ترجمہ : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے کوئی اس کا شریک نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔
اگر ہم نائن الیون کے حملوں کے بعد کا منظرنامہ دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ دنیا کو یہ یقین دلادیا گیا ہے کہ داڑھی ٹوپی دہشت گردی کی علامت ہے. مسلمان دہشت گرد ہیں اور اسلام دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے.اور نہ جانے کتنی من گھڑت باتیں مسلمانوں کے تعلق سے دنیا کو بتائی گئیں۔ معصوم اور کچے ذہنوں میں یہ خام خیال بارود کی طرح ٹھونسا گیا کہ اصل دہشتگردی یہی ہے۔ اور پھر یہاں سے وہ دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر عالم اسلام کو لہولہان کرنے کا منصوبہ شروع کیا گیا جو اب تک کسی نہ کسی شکل میں ہنوز جاری ہے۔ کبھی افغانستان میں طالبان کو ختم کرنے کے نام پر تو کبھی کشمیر میں ملیٹنٹ کے خاتمہ کے نام پر، تو کبھی بھارت میں مختلف بلاسٹوں اور تنظیموں کے نام پر، کبھی پاکستان میں دہشت گردی کو ختم کرنے کے نام پر ،تو کبھی فلسطین میں ناجائز اور غاصبانہ قبضہ کی صورت میں ۔ گویا ہر طرف سارے لوگ پورے عالم کے مسلمانوں کے خون کے پیاسے ہوگئے ہیں اور اتنا سب کچھ برباد و تہس نہس کرنے کے بعد بھی ان کے ہونٹ پیاسے ہی ہیں. جنہیں تر کرنے کے لئے وقفے وقفے سے کسی نہ کسی بہانے سے خون بہایا جارہا ہے۔ یہ خونِ ارزاں خصوصاً شام، عراق، فلسطین، کشمیر، بھارت اور دوسرے ممالک میں بہایا جا رہا ہے۔
لیکن اگر نائن الیون کے حملوں کے بعد کے مثبت پہلو کی طرف روشنی ڈالی جائے تو دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ اس کے بعد یورپ اور دنیا کے دیگر ممالک میں اسلام بڑی تیزی کے ساتھ پھیلا۔ لوگ جاننے لگے کہ آخر اسلام ہے کیا اور اسی جستجو میں وہ حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے جا رہے ہیں۔ اور جب جب بھی مذہب اسلام کو دبانے کی کوشش کی گئی تب تب اسی سچائی کے ساتھ یہ اٹھا ہے۔
بقول شاعر
اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے
اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دباؤگے
ٹھیک ایسا ہی حال نیوزی لینڈ میں حملوں کے بعد ہوا. بڑے پیمانے پر لوگ اسلام کی حمایت میں دوڑے چلے آئے۔ خوشی تو اس وقت ہوئی جب نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کی جانب سے ان حملوں کے بعد مثبت پہلو کا آغاز کیا گیا۔ جسکی تفصیلات آپ کے سامنے آچکی ہیں۔ ان کا مسلمانوں کی ہمدردی میں مشرقی لباس زیب تن کر کے آنا اور ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی کا احساس کرنا، وہاں کے مسلمانوں کے غم میں شریک ہونا، پارلیمنٹ کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہونا، سلام کے ساتھ اپنی تقریر کا آغاز کرنا، نماز جمعہ میں آکر حدیث بیان کرنا، اذان کو براہ راست پورے ملک میں نشر کرنا، اخبارات کا عوام کو سلام پیش کرنا، وہاں کی عورتوں کا حجاب پہننا، نیوز اینکروں کا حجاب پہننا، وغیرہ وغیرہ۔ جو کہ اسلام دشمنوں کو ایک پیغام ہے کہ مذہب اسلام تو امن کا علمبردار ہے۔اس طرح کا سلوک کرکےنیوزی لینڈ کے لوگوں نے اور وہاں کی حکومت نے دیگر ملکوں اور ان کے سربراہان کے منہ پر ایک طمانچہ رسید کیا ہے۔
اسلام دشمن چاہے جتنا زور لگالیں، سچائی سامنےآ ہی جاتی ہے۔ جن طالبان کو دنیا کے سامنے پیش کرکے امریکہ نے اسلام اور مسلمانوں کو دنیا کے سامنے دہشت گرد ثابت کرنا چاہا. آخر کیا وجہ ہے کہ انہی طالبان کی قید کے بعد برطانوی صحافی یوان ریڈلی مشرف بہ اسلام ہوکر مریم بن جاتی ہے؟ آخر کیا وجہ ہے کہ دی ہنڈریڈ نامی کتاب لکھنے والا مصنف اپنی کتاب میں سب سے پہلے نمبر پر محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو جگہ دیتا ہے؟آخر کیا وجہ ہے کہ بھارت میں’ اسلام آتنک’ اس کتاب کو لکھنے والا اچانک ‘اسلام آتنک نہیں آدرش’ اس کتاب کو لکھنا شروع کر دیتا ہے ۔۔۔کچھ تو بات ہوگی اسلام میں۔۔۔
جس طرز کی تصویر کو دنیا کے سامنے لا کر امریکا اور اس کے اتحادیوں نے دہشت گردی کی علامت ظاہر کردیا تھا آج اسی طرز کی تصویر کو دیکھ کر لوگ حلقہ بگوش اسلام ہو رہے ہیں، اور ان پر سچائی عیاں ہو رہی ہے کہ مسلمان کبھی بھی دہشتگرد نہیں ہو سکتے اور اسلام کبھی بھی دہشت گردی کی تعلیم نہیں دے سکتا۔
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِيْنُـوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ مَعَ الصَّابِـرِيْنَ (153)
اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد لیا کرو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ يُّقْتَلُ فِىْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ اَمْوَاتٌ ۚ بَلْ اَحْيَاءٌ وَّّلٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ (154)
اور جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مرا ہوا نہ کہا کرو، بلکہ وہ تو زندہ ہیں لیکن تم نہیں سمجھتے۔
وَلَنَـبْلُوَنَّكُمْ بِشَىْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِـرِيْنَ (155)
اور ہم تمہیں کچھ خوف اور بھوک اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے ضرور آز مائیں گے، اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو۔