ناندیڑ پربھنی:23´مارچ (ورق تازہ نیوز) کل عیدالفطر کے موقع پرناندیڑ شہر سے متصل واجے گاوں میں مقامی عیدگاہ کے قریب عین عیدالفطر کی نماز کے وقت ایک پُراسرار خودکش دھماکہ رونما ہواتھا جس میں بائیک سوارنوجوان کی موت ہوگئی تھی ۔اس سارے واقعہ کے بعد ناندیڑ سمیت مہاراشٹربھر میں اس واقعہ کی گونج سنائی دے رہی ہے ۔ اور اب یہ بھی اطلاع معتبرذرائع سے موصول ہوئی ہے کہ اس ملزم کی شناخت ہوگئی ہے اور اسکا تعلق پربھنی ضلع سے ہے ۔ اورناندیڑ پولس انتظامیہ ہر زاویہ سے اسکی باریک بینی سے تفتیش کررہی ہے ۔جائے واقعہ پر دستیاب تمام اشیاءکو فورنسک لیب کو روانہ کردیاگیا ہے ۔جبکہ پولس نے فی الحال اتفاقی موت کامقدمہ درج کردیا ہے ۔
دریں اثناءمسلم ادھیکار پریشدپربھنی اور مسلم کارپوریٹر س کی جانب سے پربھنی کے کلکٹر کے معرفت وزیراعلیٰ مہاراشٹرکو میمورنڈم روانہ کیاگیاجس میں واقعہ کی باریک بینی سے تفتیش کروانے کامطالبہ کرکے دیگر ملزمین کوتلاش کر معاملے کا پردہ فاش کرنے کامطالبہ کیاگیاہے ۔اس موقع پر وحیدصاحب ‘ ساجد ندوی ‘ معین مولا‘عمران خان مزمل خان ‘یونس سرور ’ندیم قاضی ’محمدرئیس‘ شیخ ابراہیم ‘ متین بھائی فرشی والے اوردیگر افراد موجود تھے۔تفصیلات کے مطابق21مارچ کوعیدالفطر کی نماز ختم ہوتے ہی واجے گاوں کی عیدگاہ سے قریب واقع چھوٹے پ±ل کے راستے پر ایک بھیانک دھماکہ ہوا۔جس میں ایک شخص شدید جھلس گیا ہے جس کی بعد میں سرکاری اسپتال وشنوپوری میں موت ہوگئی ،جس سے اس علاقے میں افراتفری پھیل گئی ۔ مقامی لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ شخص واجے گاو¿ں کی عید گاہ پر جاری نماز کے دوران دھماکہ کرنے کی نیت سے یہاں آیا تھا لیکن اس دھماکے سے پہلے وہ خود جھلس گیا۔کہا جارہا ہیکہ وہ پٹرول بم کے دھماکے میں شدید زخمی ہو گیا۔
اطلاعات کے مطابق، عیدگاہ قدوائی نگر اور عیدگاہ واجے گاوں میں عیدالفطر کی اجتماعی نماز ختم ہونے کے بعد صبح تقریباً 9:25 بجے ایک موٹر سائیکل سوارجو قدوائی نگر سے واجےگاو?ں کی طرف دریائے گوداوری پر بنے بندھارے(چھوٹے پ±ل) کے راستے سے جا رہا تھا۔اسکے بعد وہ پل کے بازو ٹھہر گیا۔
کیا ہوا؟:موصولہ اطلاع کے مطابق ہفتہ کی صبح نوجوان اپنی بائک پر سواری واجےگاو¿ں کے پل پر جا رہا تھا۔ اچانک موٹر سائیکل میں آگ لگ گئی۔ نوجوان کے جسم کے اندر بھی دھماکہ ہوا۔ آگ اتنی شدید تھی کہ نوجوان کو باہر نکلنے کا موقع نہیں ملا۔ نوجوان آگ میں 90 فیصد جھلس چکا ہے۔ اسے علاج کے لیے فوری طور پر سرکاری اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے جہاں اسکی دورن علاج موت ہوگئی ۔ پولس نے جرم نمبر27/2026 کے تحت اتفاقی موت کامقدمہ درج کیاگیاہے
دھماکوں نے راز میں اضافہ کر دیا۔
اس واقعے کی سب سے چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ نوجوان کے جسم اور موٹر سائیکل سے اس وقت دھماکہ ہوا جب آگ جل رہی تھی۔ یہ دھماکہ اصل میں کیا تھا؟ کیا اس کے پاس کوئی دھماکہ خیز مواد تھا؟ یا یہ صرف ایک تکنیکی خرابی تھی؟ مختلف بحثیں اب بھڑک اٹھی ہیں۔ جس جگہ یہ واقعہ پیش آیا اس کے قریب واقع عیدگاہ میں نماز عید ادا کی جا رہی تھی اس لیے اس واقعہ کو سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔
پولیس اور فرانزک ٹیم جائے وقوعہ پر
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ناندیڑ کے سینئر پولیس افسران موقع پر پہنچ گئے۔ تحقیقات کے لیے فرانزک ٹیم کو بلایا گیا ہے کہ آیا یہ محض حادثہ تھا یا قتل کا معاملہ۔ موٹر سائیکل میں آگ کیسے لگی اور نوجوان پھٹنے کی وجہ کیا؟ پولیس مکمل تفتیش کر رہی ہے۔واجےگاو¿ں پل پر پیش آنے والے اس واقعہ نے علاقے میں قیاس آرائیاں شروع کر دی ہیں۔ پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا یہ خودکشی کی کوشش تھی یا اس کے پیچھے کوئی بڑی سازش تھی۔ عیدنماز کے موقع پر پیش آنے والے اس واقعے نے مختلف بحث چھیڑ دی ہے۔