خلیجی ممالک کے لیے صورتحال واضح ہے: وہ اب بھی ایران کے ردعمل کی پہلی صف میں ہیں، اور آبنائے ہرمز جس پر ان کی معیشتوں کا انحصار ہے، تاحال محفوظ نہیں۔
کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک ڈرون حملے کے بعد فیول ٹینک میں آگ بھڑک اٹھی، جس پر ہنگامی عملے نے قابو پایا۔ اگرچہ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اہم تنصیبات اب بھی خطرے کی زد میں ہیں۔
اقوام متحدہ میں کویت کے سفیر ناصر عبداللہ الہین نے شدید ردعمل دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں کہا کہ یہ جارحانہ طرزِ عمل بین الاقوامی خودمختاری اور انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی انتہا تک پہنچ چکا ہے۔
متحدہ عرب امارات ایران کے حملوں کا سب سے زیادہ نشانہ بنا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ ’دہشت گردوں کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہو گا‘۔ حکام کے مطابق اگر ایران کی حکومت برقرار رہتی ہے تو تعلقات کی بحالی مشکل ہو گی۔
خطے کے رہنما اس بات کی ضمانت چاہتے ہیں کہ ان کا علاقہ دوبارہ ایران کے مخالفین کے خلاف استعمال نہیں ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ احساس بھی مضبوط ہو رہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات شاید وہ تحفظ فراہم نہیں کر رہے جس کی توقع کی جا رہی تھی۔