انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں کسی بھی بچے کے لیے اُس کی سپورٹس بائی سائیکل اتنی محبوب چیز ہے کہ وہ کسی کو اسے چھونے تک نہیں دیتا۔ لیکن وادی میں عید سے ہی ایران کے لیے جاری امدادی مہم کے دوران نہ صرف مردوں نے اپنی گاڑیاں، خواتین نے اپنے زیورات بلکہ بچوں نے اپنی محبوب بائیکس بھی عطیہ کر دی ہیں۔
بڈگام کے ماگام علاقے میں امدادی مہم چلانے والے نوجوان منتظر مہدی نے بی بی سی کو بتایا کہ جن دو بچوں نے اپنی نئی بائیکس عطیہ کی ہیں، وہ سامنے نہیں آنا چاہتے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’رہبر خامنہ ای ہمارے لیے دنیا کی ہر چیز اور ہر شخص سے زیادہ محبوب ہیں۔ اس مہم کی کامیابی کی وجہ یہی ہے۔ جب ہمارے رہبر نہیں رہے تو دنیا کی کوئی بھی چیز اب ہمارے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔ اسی لیے لوگ دل کھول کر سب کچھ ایران کے لیے دے رہے ہیں۔‘
سرینگر، بڈگام ، بارہمولہ، پونچھ، راجوری، کارگل اور دوسرے قصبوں میں جاری اس امدادی مہم کے لیے کشمیر میں بیشتر شعیہ گروپ کئی ہفتوں سے سرگرم تھے۔تاہم عید سے ایک دن قبل نئی دلی میں ایرانی سفارتخانے نے جب اپنا اکاؤنٹ نمبر بعض رضاکار تنظیموں کے ساتھ شیئر کیا تو عید کے روز نہ صرف کشمیر بلکہ پورے انڈیا میں ایران کے حق میں امدادی لہر پھیل گئی.
تہران میں کربلا ہوا‘
ماگام کی جامع مسجد کے منتظم میر نذیر کئی بستیوں میں جمع ہو رہے عطیات کے انچارج ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ایک خاتون کے خاوند کا 28 سال پہلے انتقال ہوا تھا۔ اب اس کے پاس خاوند کی آخری نشانی کے طور پر صرف دو کنگن تھے۔ جب انھوں نے سُنا کہ رہبرِ اعلیٰ کی یاد میں ایران کے لیے امدادی مہم شروع ہوگئی ہے تو انھوں نے سونے کے وہی کنگن عطیہ کر دیے۔‘
فاطمہ رسول نامی اس خاتون نے بتایا کہ انھیں گذشتہ برسوں کے دوران کئی مرتبہ سخت مالی مشکلات کا بھی سامنا رہا لیکن انھوں نے کنگن نہیں بیچے.وہ کہتی ہیں کہ ’اُنھوں (امریکہ و اسرائیل) نے ہمارے رہبر کو شہید کر دیا۔ میں اپنی سب سے قیمتی اور پیاری چیز دینا چاہتی تھی، اسی لیے یہ کنگن اپنے اور اپنے خاوند کی طرف سے دیے ہیں
میر نذیر کہتے ہیں کہ واقعۂ کربلا شعیہ مسلمانوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ’جس طرح امام حسین کو اپنے اہل خانہ سمیت قتل کیا گیا تھا، اسی طرح رہبر خامنہ ای کو بھی اپنے بیوی بچوں اور معصوم نواسوں سمیت قتل کیا گیا۔ ہمارے لیے تو دراصل تہران میں کربلا 2.0 ہوا تھا۔ ایک آواز کی دیر تھی کہ لوگ اپنا سب کچھ دینے پر آمادہ ہوگئے۔‘
میرنذیر کے مطابق نئی دلّی میں ایران کے سفارتخانے نے ایک اکاؤنٹ نمبر دیا ہے، جس میں پوری وادی سے جمع ہونے والی نقدی اور عطیات کی مالیت جمع کروائی جا رہی ہے۔ ’ایسے بھی لوگ ہیں جنھوں نے اپنی قیمتی گاڑیاں، موٹرسائیکل یہاں تک کہ کچھ نے تو زمین تک عطیہ میں دے دیے۔

’کچھ لوگوں نے لاکھوں کی رقم دے کر اصرار کیا کہ ان کی شناخت ظاہر نہ کی جائے۔ ان جائیدادوں کی نیلامی سے جو رقم آئے گی وہ بھی سفارتخانے کے بینک کھاتے میں جمع کردی جائے گی۔‘
کالم نویس اور سماجی کارکن عبدالقیوم شاہ کہتے ہیں کہ ایران کے لیے عوامی عطیات کی جو مہم آج کل وادی میں جاری ہے اس نے ماضی کے سبھی ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’1990 میں جب ملیٹینسی شروع ہوئی تو کئی کئی ماہ تک طویل کرفیو نافذ رہتا تھا۔ کچھ رضاکاروں نے ہلالِ احمر نام سے ایک مہم شروع کی جس میں کھانے پینے کی چیزیں وادی بھر میں تقسیم کی گئیں۔ اسی طرح 2005 کے زلزلے میں کپوارہ اور اُوڑی میں تباہی ہوئی، نوجوانوں نے کپڑے اور بستر ٹرکوں میں لاد کر وہاں پہنچا دیے۔
’2014 کے تباہ کن سیلاب کے دوران بھی غذائی اجناس تقسیم ہوئیں۔ لیکن یہ میں پہلی بار دیکھ رہا ہوں کہ لوگ گھروں سے گاڑیاں، واشنگ مشین، فریج، شال، قالین، قیمتی تانبے کے برتن اور جو کچھ بھی گھر میں ہے لے کر آتے ہیں اور ایران کے لیے عطیہ کر دیتے ہیں۔‘
قیوم شاہ کے مطابق ایران کے لیے جاری موجودہ امدادی لہر ’کشمیر میں عوامی عطیات کی ریکارڈ توڑ مہم‘ ہے۔
رضاکار منتظر مہدی نے بتایا کہ ایک نوجوان، جو شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتا، برسوں سے علی خامنہ ای کے ساتھ ملاقات کا اشتیاق رکھتا تھا۔
اُس نے اس ارادے سے ایک مہنگی موٹر سائیکل خریدی تھی کہ اسی پر سوار ہو کر تہران جائے گا۔ ’کل ہی اُس لڑکے نے اپنی وہی بائیک عطیہ کر دی۔‘